خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 211
خطابات ناصر جلد دوم ۲۱۱ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء کر سکتا ہے وہ اس عالمین سے لے خدمت لینے کی ایسی قوتیں اور استعداد میں دی گئی ہیں کہ جو عالمین کے نزدیک چیزیں یا اجزا ہیں یا دور کے اجزاء ہیں ان سے خدمت لینے کی طاقت اور قوت اور استعداد انسان کو دی گئی ہے یہ بڑے زبر دست اصول ہیں جن کا اعلان کیا گیا ہے یہ جو میزان ہے یہ اپنے مختلف یونٹوں میں اور حصوں میں منتشر اور پراگندہ نہیں ہے بلکہ کسی ایک جگہ کو آپ پکڑ لیں تو دیکھیں گے کہ پھر اس کا تعلق اگلے کے ساتھ پھر اس کا اگلے کے ساتھ پھر اس کا اگلے کے ساتھ پھر اس کا اگلے کے ساتھ پھر اس اگلے کے ساتھ یہاں تک کہ اس میزان میں اس balance میں ہر چیز بندھ جاتی ہے پھر جب ایک مکمل یو نیورنس بنتی ہے تو وہ اپنی تکمیل میں balanced ہوتی ہے یعنی جو balance جو نظام ہائے شمسی کا اپنی galaxy ہے اور galaxis کا اپنے درمیان ہے یہی نظام انسان کے دل کے کیمیکل اجزاء میں اور galaxy کے اندر بھی۔کیونکہ یہ جو balance ہے یہ جو میزان کا اصول ہے یہ جو توازن قائم کیا گیا ہے اس میں بھی آگے انتشار نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی واحدانیت اس کو برداشت نہیں کر سکتی۔اب انسان کو یہ کہا کہ تجھے ہم نے عقل تو دی لیکن خالی تیری عقل صحیح راہوں پر نہیں چل سکتی اس کے لئے کچھ اور چاہئے اور ہمیں سمجھانے کے لئے کہ ان کی عقل کچھ نہیں کر سکتی ہمیں فائدہ نہیں پہنچاتی بلکہ بعض دفعہ ہمیں بہت خراب کرتی ہے ( جب کہ میں نے بعض مثالیں دی ہیں ) جب تک اس کو ایک ایسا رفیق نہ ملے جو اسے راہ راست پر چلائے۔ویسے تو ہر چیز کے لئے اس کا رفیق ہے لیکن عقل کے رفیق تین بنیادی قسموں میں محصور ہیں جب تک وہ رفیق نہ ملیں عقل کام ہی نہیں کر سکتی ہر شخص یہ کہے گا حتی کہ ایک دہر یہ بھی یہ کہے گا کہ اس کے بغیر عقل کام نہیں کرتی آج کا عالم بھی یہ کہتا ہے کہ نہیں کرتی۔خدا تعالیٰ نے عقل کو پہلا رفیق دیا ہے مشاہدہ اور تجربہ۔خدا تعالیٰ نے عقل کو کہا اب عقل فی ذاتہ جتنا مرضی زور لگالے مشاہدہ کے بغیر وہ صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچے گی اس کو کمال حاصل نہیں ہو گا مثلاً ہمارے ایک احمدی سائنٹسٹ ہیں ڈاکٹر عبدالسلام صاحب ان کا علم تھیوری سے تعلق رکھتا ہے غالباً تھیوریٹکل فزکس ان کا مضمون ہے وہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر اور اپنی عقل کے زور سے اربعے لگاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑا چھا ذہن دیا ہے اور بڑی عقل دی ہے وہ حساب کی رو سے بڑے اربعے لگاتے ہیں مثلاً وہ یہ کہتے ہیں کہ فلاں قسم کے ذرے میں یہ balance توازن موجود ہے