خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 210 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 210

خطابات ناصر جلد دوم ۲۱۰ اختتامی خطاب ۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۶ء نہیں گئی۔میں نے بتایا ہے کہ میں اس کائنات کی وسعتوں کی بات کر رہا ہوں balance یعنی توازن کو قائم رکھنے کے لئے نظام شمسی کو لے لو فر مایا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ ( الرَّحْمَن :) ایک اصول ہے جو ایک رفتار پر ایک جہت میں ایک ہی زاویہ اور محور پر کارفرما ہے زمین ایک ہی محور پر گردش کرتی ہے۔اسی طرح چاند ہے سائنسدان کہتے ہیں کہ اگر چند نیزوں کے فرق سے زیادہ قریب ہوتی زمین سورج سے تو یہاں اتنی گرمی ہوتی کہ انسان زندہ نہ رہ سکتا اور اگر چند نیزوں کے فرق سے پرے ہوتی دور ہوتی تو یہاں اتنی سردی ہوتی کہ انسان زندہ رہ سکتا۔یہی balance ہے جسے وَضَعَ الْمِيزَانَ (الرحمن : ۸) میں بیان کیا گیا ہے۔اس کائنات میں ایک خاص توازن قائم کیا گیا ہے سورج اور ان زمین کے درمیان ایک خاص فاصلہ ہے زمین ایک محور۔اس کی اپنی جہت اور رفتار ہے جس کے مطابق وہ گھوم رہی ہے۔غرض قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے اعلان کر دیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے اس یو نیورس اس عالمین میں میزان یعنی توازن کا ایک اصول قائم کر دیا ہے آج کل کئی دہر یہ لوگ کہہ دیتے ہیں خدا ہے ہی نہیں یعنی وہ خدا نہیں جس نے چودہ سو سال پہلے ہمیں بتا دیا تھا کہ یہ اصول قائم ہے قرآن کریم ایسے ہی کئی دوسرے علوم سے بھرا ہوا ہے۔انسان کو تو پچھلی دو ایک صدی میں ان علوم کا پتہ لگنا شروع ہوا ہے جو اس میں بتائے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس عالمین میں ایک تو میزان کا قانون بنایا ہے دوسرے ہم نے عالمین میں ایک اور اصول قائم کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنة (الجاثية : ١٤) اس عالمین کی ہر شے کو بلا استثنا یہ حکم ہے کہ وہ انسان کی خدمت میں لگی رہے یعنی وہ galaxy جہاں تک ہمارا تخیل بھی نہیں پہنچا وہ ستارے جن کی تعداد ہم گن نہیں سکے۔ان کو ہم گن نہیں خدا تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ تم انسان کی خدمت کرو۔تیسرا اصول جو خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا اسلام نے ہمیں بتایا قرآن کریم نے ہمیں بتایا وہ یہ ہے کہ انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا گیا ہے یعنی جہاں ایک طرف عالمین کو انسان کی خدمت کے لئے حکم دیا گیا ہے وہاں انسان کو یہ طاقت دی گئی ہے کہ ہر وہ خدمت جو یہ عالمین انسان کی