خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 189
خطابات ناصر جلد دوم ۱۸۹ دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء اسی طرح گندم ہے ساڑھے چار من فی کس سالانہ کے حساب سے ہم آدھی گندم مفت دیتے ہیں جس کے تھوڑے کھانے والے ہیں ان کو تھوڑی گندم ملتی ہے لیکن ان کی آدھی ضرورت ہم نے پوری کر دی اور باقی کے لئے انہیں کہا کہ قرض لے لو اور سٹور کر لو جس کے چار افراد ہیں یعنی دو بچے اور دو خود ماں باپ اس کو نو من مفت اور جس کے دس افراد ہیں اس کو ساڑھے بائیس من گندم مفت دی جاتی ہے اور اس طرح عقل اور اسلامی تعلیم نے جو ایک اصول بتایا ہے اس کے مطابق ہم دیتے ہیں۔دوسری تنخواہیں دنیا کے اصول کے مطابق دینی پڑتی ہیں۔مجبوری ہے۔جب اسلام ساری دنیا میں غالب آ جائے گا تو انسان کو بڑی سہولت ہو جائے گی۔صدرانجمن احمدیہ کا یہ کام ہے ، میں نے بتایا ہے اب آپ ذہن میں فرق رکھیں کہ میں جماعت احمد یہ کہوں گا تو اور مطلب ہوگا، صدرانجمن کہوں گا تو اور مطلب ہوگا صدرانجمن احمدیہ کا یہ کام ہے کہ وہ پاکستان میں کتب وغیرہ کی اشاعت کرے۔ہمیں کتابیں دو، ضرورتوں کے لئے چاہئیں ایک تو جس کو ہم اسلام سمجھتے ہیں اور جس کو ہم نے صداقت پایا ہے اس کی تبلیغ کے لئے۔یہ تو نہیں ہے کہ جو دوسرے فرقے سمجھتے ہیں ہم نے اس کی تبلیغ کرنی ہے، ہم نے ان کی تبلیغ نہیں کرنی لیکن وہ بڑی خوشی سے اپنی تبلیغ کریں۔ہمارے دل میں تو ایک لحظہ کے لئے بھی یہ خیال پیدا نہیں ہوتا کہ وہ کیوں تبلیغ کرتے ہیں۔ہم تو ہر لحظہ خیال کرتے ہیں کہ وہ تبلیغ کریں تاکہ پتہ تو لگے کہ حق اور صداقت کدھر ہے اور صحیح اور غلط چیزیں ملا کر معجون مرکب کہاں بنا ہوا ہے۔بہر حال میں احمدی ہوں میں سمجھتا ہوں کہ احمدیت کچی ہے۔اس پر نہ کسی کو غصہ آنا چاہئے اور نہ کسی کو کوئی رنج پہنچنا چاہئے ، اگر ایک بریلوی ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میں سچا ہوں ہمیں بالکل غصہ نہیں آتا کبھی خیال بھی نہیں آتا۔ٹھیک ہے تم جس کو سچائی سمجھتے ہو جب تک اسے سچائی سمجھتے ہو اس کی پابندی کرو۔کالج کے زمانے میں جب میں پرنسپل تھا تو ایک دفعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور انہوں نے غیر احمدی لڑکوں کو کہا کہ میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھو اور اگر کوئی تمہیں مجبور کرے تو میرے پاس آؤ میں ان کی خبر لوں گا جو منتظمین بنے ہوئے ہیں۔میں تمہیں یہ یہ کہتا ہوں ( دیکھیں خدا کے بندے کس طرح بات کرتے ہیں ) میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ جب تک تم نماز با جماعت کو فرض سمجھتے ہو اور تمہارا یہ عقیدہ ہے تو تم اپنا نماز با جماعت کا فریضہ ادا کرو۔یہ میری