خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 188 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 188

خطابات ناصر جلد دوم ۱۸۸ دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء صدر انجمن احمدیہ کے کارکن خدا کے فضل سے بڑے فدائی ہیں۔استثناء ہیں ، بعض میں کمزوریاں ہیں اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔چند ایک منافق بھی ہیں اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ، یہ چیزیں ہمارے ساتھ لگی ہوئی ہیں، لیکن مجموعی لحاظ سے بڑے مخلص اور بڑے فدائی کارکن ہیں۔ہم ان کو جو ماہانہ گزارہ دیتے ہیں وہ عام حالات میں ، آجکل کے مہنگائی کے حالات میں بہت تھوڑا ہے تاہم جتنا ہم سے ہوسکتا ہے وہ ہم کرتے ہیں۔یہ بات میں آج اس لئے بتانے لگا ہوں کہ بعض منافق کہہ دیتے ہیں باہر والوں کو کہ جی بڑی تنگی ہے بڑی مشکل ہے وغیرہ۔میں نے بتایا ہے کہ جو خلصین ہیں میں ان کے متعلق بات کر رہا ہوں کہ وہ بڑے پیار سے کام کر رہے ہیں۔وہ خدا کی راہ میں قربانی دے رہے ہیں اور ہم خدا کی رضا کے لئے جتنا ہم سے بس پڑتا ہے ان کا خیال رکھتے ہیں۔مثلاً سالانہ ضرورت کی آدھی گندم ان کو مفت دی جاتی ہے اس طرح ہم ان کو آزاد کر دیتے ہیں کہ وہ بھو کے نہیں رہیں گے۔مالی لحاظ سے وہ اور تکلیفیں برداشت کر لیں گے لیکن گندم کے لحاظ سے ان کو تکلیف نہیں ہوگی روٹی جو ہمارے پاکستان میں زمیندار علاقے کی اکثریت کا کھانا ہے انہیں ملتی رہے گی زمیندار علاقے کا کھانا صرف روٹی ہے چٹنی کے ساتھ ، میں نے اکثر شکار پر جاتے ہوئے خود دیکھا ہے میری عادت ہے کہ میں جا کر بن بلائے کا مہمان بن کر ایک لقمہ لے لیا کرتا ہوں چنانچہ میرا مشاہدہ ہے کہ یہی ان کا کھانا ہے۔تو اتنا اللہ کے فضل سے ان کومل جاتا ہے۔پھر سردیوں میں کپڑوں کا خرچ اور کچھ اور خرچ ہوتے ہیں۔چنانچہ سا را ملا کر ان کا مجموعی طور پر عملے کا جو سالانہ بجٹ ہے اس کا تمہیں فی صد ہم ان کو دوسری مدوں میں دیتے ہیں۔گویا جس کا ماہانہ گزارہ سو روپے ہے وہ عملاً ایک سو تیس روپے بن جاتا ہے اور یہ تقسیم عقل کے مطابق ہے۔تنخواہ یا گزارے کے نام سے جو ماہانہ رقوم ملتی ہیں وہ تو جس کے پانچ بچے ہیں اس کو بھی اتنی ہی ملے گی۔کہ جی یہ میٹرک پاس ہے یہ اس کا گریڈ ہے اس لئے وہ اسے ملے گا اور جو بیچارہ دس بچوں کا باپ بن گیا، خدا کے فضل سے اس کی بیوی نے بڑی جلدی جلدی دو دو بچے پیدا کئے اس کو بھی وہی ملے گا کیونکہ گریڈ یہی ہے لیکن یہ جو ہم زائد رقم دیتے ہیں مثلاً موسم سرما کا الا ونس پچاس روپے فی کس ہے یہ اگر کسی کے دو بچے اور دو وہ میاں بیوی ہیں تو ان کو دوسوروپے ملا اور اسی گریڈ کا دوسرا آدمی اگر دس افراد خاندان پر مشتمل ہے تو اس کو دوسو کی بجائے پانچ سوملا۔