خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 9
خطابات ناصر جلد دوم ۹ افتتاحی خطاب ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء ہے اُس غیرت اور جذبہ کے تحت ہم نے ہر چیز بھیج دی۔یہاں تو کچھ نہیں لائے۔ایک دفعہ میں نے حساب کیا قادیان میں مارکیٹ ریٹ کے مطابق ساڑھے تین کروڑ روپے کی جائیداد ہمارے اپنے خاندان والے چھوڑ کر آئے تھے۔ماشاء اللہ بہت بڑا خاندان تھا مگر یہاں بھو کے تو نہیں مرے۔ہندوؤں اور سکھوں کی اس یلغار نے ہمارے ہاتھ میں مٹی کے کشکول تو نہیں پکڑوائے اور نہ وہ پکڑ واسکتے تھے۔خدا تعالیٰ نے آسمان سے فرشتوں کو بھیج کر ہماری ضرورتوں کو پورا کر دیا۔اس نے ہمارے دلوں کو دُنیا کی حرص سے محفوظ رکھا ہے۔یہ اس کی عنایت ہے لیکن یہ بھی اُس کا فضل ہے کہ وہ دیتا ہے اور ہمیں کہتا ہے کہ آگے تقسیم کرتے چلے جاؤ۔غرض میں اپنے دوستوں کو ۱۹۴۷ء کے واقعات بتا تا تھا اور اُن سے کہتا تھا کہ دیکھو ہم خالی ہاتھ آئے تھے لیکن ہمارا گھر پھر خدا تعالیٰ نے بھر دیا۔ہمارے ساتھ دوسرے لوگوں کے بھی کھیت ہیں۔مگر ہمارے کھیت میں مونجی ہے، وہ جتنی ہماری ہوتی ہے اُس سے آدھی بھی دوسروں کی نہیں ہوتی۔اب یہ تو میرا کام نہیں ہے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ہم اس پر الحمدللہ پڑھتے ہیں جب اُس نے لینا ہوتا ہے تب بھی الحمد للہ پڑھتے ہیں جب وہ دیتا ہے تب بھی الحمد للہ پڑھتے ہیں۔ہمارا کیا ہے ، سب کچھ اُسی کا ہے۔ہر چیز اس کی ہے۔وہ جو مرضی کرے ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ وہ ہمیں ہر حال میں اپنا با وفا ، راضی برضا اور راضی بقضا پائے گا وہ ہر احمدی کو ایسا ہی پائے گا۔مال لٹ جائیں۔جانیں چلی جائیں اور بظاہر تلخی کی زندگی ہوگی مگر پھر بھی نہ ہمارے چہروں کی مسکراہٹیں چھینی جاسکتی ہیں نہ ہمارے دلوں کا اطمینان چھینا جا سکتا ہے۔اس لیے کہ ہمارے چہروں کی مسکراہٹوں اور ہمارے دلوں کے اطمینان کا منبع اور سر چشمہ کوئی دنیوی طاقت اور ایجنسی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔جس وقت ہم دُنیا سے تنگ آ کر اپنے خدا کی طرف رجوع کرتے اور عاجزانہ اُس کے دامن کو پکڑ کر اس سے کہتے ہیں کہ اے خدا! دُنیا نے ہمیں چھوڑ دیا پر تو ہمیں نہ دھتکارنا۔ہم نے تیرا دامن پکڑا ہے تو ہمیں اپنے سے علیحدہ نہ کرنا ہماری اس عاجزانہ پکار پر وہ بڑے پیار سے ہمیں تسلی دلاتا ہے۔صرف مجھے ہی نہیں بلکہ جماعت کے ہزار ہا آدمیوں کو اُس نے ان دنوں میں تسلیاں دلائیں اور اتنے پیار سے دلائیں کہ انسان کو حیرت ہوتی ہے۔بیوقوف ہے وہ انسانی گروہ جو یہ کہتا ہے کہ خدا تو اتنی عظیم ہستی ہے وہ بھلا عاجز بندوں سے ذاتی