خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 173 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 173

خطابات ناصر جلد دوم ۱۷۳ دوسرے روز کا خطاب ۱۱ر دسمبر ۱۹۷۶ء نے کہا کہ اگر چہ تم نے اپنی اس ورلی زندگی میں میری جنتوں کے حصول کا سامان اکٹھا نہیں کیا پھر بھی میں تمہیں اپنی جنتوں کی طرف لے کر جاؤں گا لیکن لے کر جاؤں گا دوزخ کے راستے کے ذریعہ سے۔ورنہ تو ہلاکت تھی مگر فرمایا لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيى (طه: ۷۵) یہ نہیں کہ بالکل موت وارد ہو گئی اور اس کو ختم کر دیا کہ چل دفع ہو پنجابی میں کہتے ہیں کہ جادفع ہو دوڑ جا۔یہ نہیں کہا۔خدا نے کہا کہ میں نے تجھے جنت میں لے جانے کے لئے پیدا کیا ہے اور میں تجھے جنت میں لے کے جاؤں گا۔اگر تو سیدھے راستے سے نہیں جاتا تو میں تجھے ہسپتال کے ذریعے سے لے کے جاؤں گا میں تجھے پہلے دوزخ میں ڈالوں گا اور پھر میں تجھے جنت میں لے کے جاؤں گا ، لے کے ضرور جاؤں گا تجھے جنت میں۔اسی واسطے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دوزخ پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ تمثیلی زبان میں اس کے دروازے کھٹ کھٹ کر رہے ہوں گے۔کوئی آدمی اندر نہیں ہو گا اس لئے نہ دربان کی ضرورت ہوگی نہ دروازے بند کرنے کی ضرورت ہوگی ، وہاں کسی انتظام کی ضرورت نہیں ہوگی سب لوگ اس ہسپتال سے صحت یاب ہو کر نکل چکے ہوں گے اور خدا کی انسان کے متعلق جو آخری منشا تھی کہ اس کو جنت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کے مطابق سارے جہنمیوں کو سزا کے بعد جنت میں لے جایا جائے گا لیکن ہمارے لئے فکر کی بات یہ ہے کہ اگر ساری دنیا کے عذاب ایک طرف اکٹھے ہو جائیں تو اس سے بھی زیادہ اُس ایک لمحے کا عذاب ہے جو دوزخ کا عذاب ہے اور خدا تعالیٰ کے قہر کا عذاب ہے۔اس کو تو کسی شریف کسی سمجھدار، کسی زیرک کسی ذہین انسان کو اپنی مرضی سے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہونا چاہئے۔جہالتوں سے ہو جاتے ہیں۔غرض انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جنتوں کے لئے پیدا کیا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض ہی یہ تھی کہ نوع انسانی کو بحیثیت نوع انسانی ہدایت راستہ دکھایا جائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ان کا رجوع ہوا ور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار ان کے دلوں میں پیدا ہو اور خبر یہ دی گئی تھی کہ هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ (الصف: ١٠) یہ جو غلبہ ہے اس کے متعلق ہمارے پہلے بزرگوں نے کہا ہے کہ اسلام کا جو آخری غلبہ ہے وہ آخری زمانے میں مقدر ہے کہ جب مہدی پیدا ہوں گے اور ان کی جماعت کے ذریعہ سے اسلام ساری دنیا میں غالب آئے گا۔یہ جو تدبیر ہے، یہ جو