خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 154 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 154

خطابات ناصر جلد دوم ۱۵۴ اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء تعلق رکھنے والے مثلاً مغرب ہے یا مشرق ہے سرمایہ داری نظام ہے یا اشتراکیت ہے جب بھی یہ لوگ ان بنیادوں سے ہٹتے ہیں تو ہم ان پر گرفت کرتے ہیں کہ تم غلط راستے پر چلے گئے ہو۔تمہارا علم درست نہیں ہے کیونکہ قرآن ہمیں یہ سکھاتا ہے ہم قرآن کی رو سے ان کی گرفت کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی لئے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن قرآن عظیم خدا کے سامنے تمہارا حکم ہوگا۔پس اگر قیامت کے دن تم نے خدا کے پیار کو حاصل کرنا ہے اور اس کی رضا کی جنتوں کو تم نے لینا ہے تو قرآن عظیم کی تعلیم اس تفسیر کے مطابق جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کی اور اس تشریح کے مطابق جو مہدی نے کی وہ تمہیں سیکھنی بھی پڑے گی اور اس پر تمہیں عمل بھی کرنا پڑے گا۔اس کے لئے کمر ہمت کس لو کہ اب یہ زمانہ جیسا کہ میں نے کہا ہے وہ زمانہ ہے جس میں آخری جنگ کی پیش خبری دی گئی تھی کہ اسلام کی اپنی مخالفانہ طاقتوں سے مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں ایک آخری جنگ ہو گی۔مہدی کے آنے کے ساتھ وہ جنگ شروع ہو گئی لیکن پہلے جنگ کی ابتداء ہوتی ہے پھر اس میں شدت پیدا ہوتی ہے پھر وہ اپنی انتہاء کو پہنچتی ہے یہ آخری جنگ اپنے انتہائی دور کے اندر پہنچ چکی ہے اور یہ معرکہ فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکا ہے کہ کس نے جیتنا ہے اور کس نے شکست کھانی ہے۔جتینا تو اسلام نے ہی ہے اس میں تو کوئی شک نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کے ہاتھوں غالب ہو گا آپ اللہ تعالیٰ کا آلہ کار بنیں گے اسلام کو غالب کرنے کا۔یا خدا تعالیٰ کوئی اور قو میں لے کر آئے گا جن کے ذریعہ وہ اسلام کو غالب کرے گا۔خدا تعالیٰ نے جو کہا ہے اور وہ جو چاہتا ہے وہ تو انشاء اللہ پورا ہوکر رہے گا تمہیں اپنی فکر کرنی چاہئے تمہیں اپنے بچوں کی اور اپنی نسلوں کی فکر کرنی چاہئے تمہیں اپنی عورتوں کی فکر کرنی چاہئے۔ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے اور اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو اس بات کی توفیق عطا کرے کہ وہ اسلامی آداب کو اسلامی اخلاق کو اور اصول روحانیت کو مدون کر کے دنیا کے سامنے پیش کرے اور خدا کرے جماعت احمد یہ دنیا کو ایک سیدھی سادی اسلامی زندگی اور اسلامی معاشرہ پر لا کر کھڑا کر دے۔ان ساری باتوں کے باوجود آپ گھبرائیں نہیں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اسلام کسی شخص کو مشقت میں نہیں ڈالتا۔اور یہ حقیقت ہے کیونکہ اس کی اپنی فطرت کی صحیح آواز ہے اور خدا انسان کو اسی کی طرف لے کر جاتا ہے۔ہمارے ایک بزرگ نے لکھا ہے