خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 153 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 153

خطابات ناصر جلد دوم ۱۵۳ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۵ء اتنے فضل کئے اب بھی ”ہمارا کمی “ کہہ دیتے ہیں بھلا وہ کمی تمہارا کہاں سے آگیا۔خیر وہ ہمارے ساتھ کھانا پکانے کے لئے گیا ہوا تھا۔میرا بچپن کا زمانہ تھا ۸۔۱۰ سال کی عمر تھی۔اتنی عمر میں دماغی تربیت تو ایسی نہیں ہوتی۔وہ باہر پھر رہا تھا۔ہم ہاؤس بوٹ میں دریا کے کنارے ٹھہرے ہوئے تھے۔تو کسی بات پر اس نے مجھے چھوٹا بچہ سمجھ کر چھیڑا۔اس نے مجھے کوئی بات کہی جو مجھے یاد نہیں رہی جو بات مجھے یاد ہے۔وہ یہ ہے کہ اس کے جواب میں میں نے کہا میں تمہیں ماروں گا۔ہاؤس بوٹ میں حضرت صاحب تشریف رکھتے تھے آپ غصہ میں فوراً باہر نکلے اور ایسا فقرہ کہا جو مجھے کاٹ دینے والا تھا آپ نے کہا یہ تیرے باپ کا غلام ہے کہ تو اسے مارے گا۔میں نے حضرت صاحب کو اپنے اوپر غصہ میں کبھی نہیں دیکھا جتنا اس وقت دیکھا۔خیر آپ نے مجھے جو سبق دینا تھا وہ دے دیا۔کوا پس یہ چیزیں بچپن میں دماغ میں آنی چاہئیں۔بچوں کے کانوں میں پڑنی چاہئیں کہ اسلام یہ ہے اور یہ اخلاق سکھاتا ہے۔دنیا ان چیزوں کو بھول چکی ہے۔جب تک ہم ان چیزوں کو اکٹھی کر کے پھر سے جماعت احمدیہ میں رائج نہ کر دیں اس وقت تک ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔اس لئے ہمارا اٹھنا بیٹھنا ہمارا سونا اور جا گنا کس طرح ہونا چاہئے۔ان سب کے متعلق احکام یاد ہونے چاہئیں۔سونے کے متعلق بھی اسلامی آداب ہیں۔جاگنے کے متعلق بھی اسلامی آداب ہیں۔اسلام نے زندگی کے ہر پہلو کے متعلق تعلیم دی ہے۔کون سی چیز ہے جو اسلام نے چھوڑی ہے۔ابھی میں نے اسی جلسہ میں بتایا تھا کہ اسلام نے مسواک کرنے کے متعلق آداب سکھا دیئے۔آج کے ڈاکٹر بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ جی ہم نے یہ نئی بات ! معلوم کر لی کہ دانتوں کو بُرش اس طرح کرنا چاہئے لیکن یہ چیز تو ہمیں آج سے چودہ سو سال پہلے ہمارے ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے بتادی تھی کہ مسواک اس طرح کرنی چاہئے۔پھر تمہاری نئی discovery کہاں سے اُتر گئی۔غرض اسلام نے زندگی کے ہر پہلو کا علم دیا حتی کہ قیامت تک کے زمانے کا علم دیا گیا ہے۔اسلام نے انسان کی زندگی کو مہذب بنایا اس کی ہر ضرورت کو پورا کیا، آداب کے میدان میں ، اخلاق کے میدان میں ، روحانیت کے میدان میں علمی تحقیق کے میدان میں۔علم تو نئے سے نئے نکل رہے ہیں مگر اسلام نے علم کو اپنے اصول میں باندھ دیا کہ ہر علم سے ،