خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 146 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 146

خطابات ناصر جلد دوم ۱۴۶ اختتامی خطاب ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۵ء لگ گئے کہ اسلام نے اس کی اجازت ہی نہیں دی گویا اسلام نے اس بات کی اجازت دی ہے نعوذ باللہ کہ بے شک دوسروں کی عزتوں پر حملہ کر دو یا یہ کہ اسلام نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ اخلاق باختہ ہو جاؤ اور تمہاری کوئی قدر نہ ان کی نظر میں باقی رہے اور نہ خدا کی نظر میں باقی رہے جس نے تم کو پیدا کیا ہے۔پس اخلاقی تعلیم کی دوسری قسم جو ہماری قوتوں کو گراوٹ سے اٹھا کر بلند مقام تک لے جاتی ہے وہ وہ تعلیم ہے جو ہماری قوتوں کو اس طرح تربیت دیتی ہے کہ کوئی حقیقی مسلمان بد نیتی سے کسی کے مال کو نقصان پہنچا کر یا مال پر قبضہ کر کے اس کے لئے ایڈا کے سامان نہیں پیدا کر سکتا۔تیسری قسم ترک شر کی یہ ہے کہ ظلم کی راہ سے کسی کو بدنی ایذاء پہنچانے کی اسلام نے اجازت نہیں دی یعنی اس بات کی اجازت نہیں دی کہ کوئی شخص جارہا ہو اور اس کو ٹھونگا مار دیا جائے۔تمہیں اگر خدا تعالیٰ نے ایک حسین تعلیم دی ہے تمہیں اگر خدا تعالیٰ نے صداقت پر قائم کیا ہے اگر تمہارے دل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت گاڑی گئی ہے اور اگر تمہیں خدائے واحد و یگانہ کی صفات کے جلوے دیکھنے کے مواقع میسر آئے اور تم اس کے ہوئے تو تمہاری حالت تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنينَ (الشعراء :۴) کے مصداق ہونی چاہئے نہ کہ جو ترک شر کی تعلیم ہے اسے نظر انداز کر دیا جائے یعنی اس تعلیم کو ترک کر دیا جائے جو اس دنیا میں شر کو دور کرنے کے لئے آئی تھی۔پس تیسری قسم ترک شر سے تعلق رکھنے والی تعلیم کی جو ہمارے مختلف قومی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے جس کا ہماری قوتوں اور استعدادوں اور جوارح کے ساتھ تعلق ہے ایسی ہے کہ ہمیں ظلم کی راہ اختیار کرنے اور کسی کو بدنی ایذاء پہنچانے سے روک دیتی ہے۔چوتھی قسم ترک شرکی یہ ہے کہ تیوری چڑھا کر نہ بولا جائے اور دوسرے کے سکون کو برباد نہ کیا جائے یہ ایک طبعی حالت ہے جسے عربی میں طلاقت کہتے ہیں۔انسان کو یہ طاقت دی گئی ہے کہ وہ خندہ پیشانی سے پیش آئے چنانچہ چھوٹا بچہ بھی جس کو کچھ پتہ نہیں ہوتا وہ بھی بالعموم ہنستا مسکراتا ہے مجھے بچوں سے بہت انس اور پیار ہے اپنے احمدی بچوں سے بھی اور دوسروں کے بچوں سے بھی۔ہم کئی دفعہ سیر کے لئے باہر جاتے ہیں کئی بچے مل جاتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ چند مہینے کے بچے کی طرف مسکرا کر دیکھیں تو وہ بھی مسکرانے لگ جائے گا۔پس یہ ایک طبعی قوت ہے جو خدا تعالیٰ نے