خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 145 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 145

خطابات ناصر جلد دوم ۱۴۵ اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء سے تربیت دی ہے کہ وہ دوسروں کے لئے شر کے سامان پیدا نہ کرے بلکہ خود اپنے لئے اور دوسروں کے لئے بھلائی کے سامان پیدا کرے۔ان کو ہم آگے چار قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں ایک عفت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی کسی قوت کا غلط استعمال نہ کرے۔جس کے نتیجہ میں کسی دوسرے کی عزت پر حملہ ہو یا معاشرہ کی عزت خراب ہونے کا ڈر ہو اور اس طرح شر اور فساد پیدا ہو۔اس کی موٹی مثال بہیا نہ جنسی تعلقات ہیں۔۔ترک شرکی دوسری قسم اخلاق کی ایسی تربیت ہے کہ دوسرے کے مال پر بد نیتی سے قبضہ کر کے اسے ایذاء پہنچانے سے باز رکھا جائے۔اسلام نے انسان کے اخلاق کو بلند کرنے کے لئے ایک تعلیم یہ دی ہے کہ دوسرے کے مال پر نا جائز حملہ نہ کیا جائے۔اسلام ایذاء رسانی کی اجازت نہیں دیتا خواہ وہ مسلمان ہو یا عیسائی ہو یہودی ہو یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو۔خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے والا ہو یا کوئی اور ہو۔اسلام اس کی ایذا رسانی کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اسلام ایک بڑا ہی حسین مذہب ہے اسلام بڑا پیارا مذہب ہے۔اسلام دلوں کو موہ لینے والا مذہب ہے۔میں نے ۱۹۶۷ء میں جب پہلی دفعہ یورپ کا دورہ کیا تو ایک موقع پر ایک میٹنگ میں وہاں کی ایک جماعت میں مجھے بلایا گیا تھا اور کہا تھا کہ چھوٹی سی تقریر بھی کر دیں۔میں نے دیکھا کہ وہاں کچھ غیر مسلم بھی تھے میں نے سوچا اپنے آدمی تو باتیں سنتے رہتے ہیں آج ان کو سنائی جائیں۔میں نے ان کو یہ کہا کہ تم یہ سن کر حیران ہو گے کہ تم لوگ جو اسلام پر ایمان نہیں لاتے اسلام نے تمہارا بھی خیال رکھا ہے۔تمہارے جذبات کا بھی خیال رکھا ہے تمہارے مالوں کی بھی حفاظت کی ہے۔تمہاری عزتوں کی بھی حفاظت کی ہے پس اسلام کتنا اچھا مذہب ہے میری تقریر کا ان پر اتنا اچھا اثر ہوا کہ وہ میرے پیچھے پڑگئے کہ ہمارے ہاں آ کر تقریر کریں۔میرا پروگرام تو پہلے سے بنا ہوا تھا۔میں وہاں نہیں جا سکا۔پس جلسہ میں تقریر کا جواثر ہوا اس میں میری اپنی تو کوئی خوبی نہیں تھی۔میں نے اپنی طرف سے باتیں بیان نہیں کی تھیں۔اپنی فلاسفی تو ان کے سامنے بیان نہیں کی تھی۔اسلام کی عام فہم باتیں اسی وقت بیٹھے بیٹھے جو میرے ذہن میں آئیں وہ میں نے ان کے سامنے بیان کر دیں جنہیں سن کر وہ کہنے لگے کہ اچھا اسلام ایسا مذہب ہے لیکن فیج اعوج کے زمانہ میں اسلام میں ایسے لوگ بھی پیدا ہو گئے۔جو اپنے نور کو کھو بیٹھے وہ کہنے