خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 141 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 141

خطابات ناصر جلد دوم ۱۴۱ اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء کے لئے دوڑا یہ ضروری نہیں کہ اس کی نیت خراب ہو یا غرور ہو لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما ياالوقار الوقار (صحيح بخارى كتاب الاذان باب لا يسعى الى الصلوة وليأتها بالسكينة والوقار ) فرمایا وقار کو ہاتھ سے جانے دیتے ہو، تاکہ ایک رکعت ضائع نہ ہو جائے ؟ یہ تو نہیں ہوسکتا جو چلنے کے آداب ہیں ان کے مطابق تمہاری رفتار ہونی چاہئے پھر تمہیں ساری نماز ملتی ہے یا ایک رکعت ضائع ہو جاتی ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بعد میں پوری کی جاسکتی ہے۔پس اسلام ایک وحشی کو آداب سکھا کر انسان بناتا ہے اور یہ آداب ہماری زندگی کے قریباً ہر شعبہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں مثلاً جوتے پہننے کے متعلق آداب ہیں مجھے یاد آ گیا بچپن میں مجھے غصہ چڑھا کرتا تھا ہمارے ایک دوست تھے وہ یہ کہتے تھے کہ مسجد میں جوتوں سمیت نہیں جانا حالانکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ جوتوں سمیت مسجد میں نہیں جانا آپ نے یہ فرمایا ہے کہ مسجد میں گند لے کر نہیں جانا اگر کسی نے جوتے پہنے اور اس کے قدم ایسی جگہوں پر پڑتے رہے کہ ان کے تلووں کے ساتھ گند ہو تو پھر مسجد میں لے جانا منع ہے اور اگر ریتلے علاقے میں جہاں گند رہتا ہی نہیں وہاں کوئی شخص چل کر آئے مسجد میں نماز کھڑی ہو اور اس نے لمبے چوڑے تھے والے بوٹ پہنے ہوئے ہوں اور ان کو کھولنے لگ پڑے اور اس طرح نماز کی ایک رکعت ضائع ہو جائے تو یہ تو صیح نہیں ہے اسلام کے قرون اولیٰ میں بڑے لمبے چوڑے تسموں والے بوٹ ہوا کرتے تھے ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں آ رہے تھے آپ نے دیکھا ایک صحابی بیٹھے اپنے لمبے چوڑے تھے کھول رہے ہیں آپ نے فرمایا تم یہ کیا کر رہے ہو وہ کہنے لگے میں نے مسجد میں جانا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مسجد میں جانا ہے تو یہ ساری ریت ؟ پڑی ہوئی ہے اس کے ساتھ اپنے بوٹوں کو رگڑو۔یہ صاف ہو جائیں گے پھر ان کے ساتھ مسجد میں چلے جاؤ۔پس کچی اور حقیقی بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو وہ چیز پیاری نہیں جو ہم اپنی مرضی سے اس کے حضور پیش کرنا چاہتے ہیں خدا تعالیٰ کو وہ چیز پیاری ہے جس کے متعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ چیز خدا کے حضور پیش کرو۔غرض ایک تو یہ خلق ہے کہ وحشی سے انسان بنایا جائے دوسرے درجہ کے اخلاق کی رو سے انسان کو با اخلاق انسان بنایا جاتا ہے۔اس کے دو حصے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے