خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 140
خطابات ناصر جلد دوم ۱۴۰ اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء۔ہوتی ہیں ان کے فراک کی ایک بڑی لمبی دم ہوتی ہے جسے چار پانچ چھوٹی لڑکیوں نے اٹھایا ہوا ہوتا ہے۔اسی طرح عرب لوگ بھی غرور میں کہ ہمیں کیا پرواہ ہے بڑے قیمتی لباس زمین پر گھسٹ رہے ہیں خراب ہو جائیں گے تو ہم اور لے لیں گے اور یہ کام وہ اپنی دولت کے غرور میں اور دوسروں کو حقیر بنانے کے لئے کیا کرتے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طریق اسلام میں نہیں چلے گا تم سب برابر ہو گئے ہو۔پس اب دنیا بدل گئی جس شخص کی نیت یہ نہیں کہ اس سے غرور ظاہر ہو تو اگر اس کی پتلون ٹخنے کے نیچے آ گئی تو کوئی حرج نہیں ایسی صورت میں کسی کا یہ حق نہیں کہ اسے سوٹیاں ماری جائیں اسی طرح نہ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ ضرور دھوتی گھٹنے کے نیچے ہو تو نماز ہوتی ہے ورنہ نہیں۔ہمارے ایک بہت بڑے بزرگ مغربی افریقہ میں گزرے ہیں جو اپنے وقت کے مجددبھی تھے۔انہوں نے جب اس قسم کی باتیں دیکھیں تو ایک کتاب لکھی جس میں لباس کے متعلق آداب پر زیادہ تر بحث کی اور بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کیا تھی۔چنانچہ انہوں نے مختلف احادیث کو لکھنے کے بعد مختلف نتائج نکالے ہیں مثلاً لباس کے متعلق یہ نتیجہ نکالا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ جو لباس میسر آئے وہ پہن لو۔انہوں نے سنت رسول کو معیار بنا کر نہایت صحیح معقول اور شاندار استدلال کیا ہے۔انہوں نے احادیث اور سنت کی رو سے ثابت کیا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پگڑی بھی پہنی سر پر رومال بھی باندھا اور ٹوپی بھی پہنی اس لئے یہ کہنا کہ جو ٹوپی پہنتا ہے وہ کافر ہے یا جو پگڑی پہنتا ہے وہ کافر ہے غلط بات ہے۔اسی طرح انہوں نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر رنگ کی (بٹنوں والی بھی اور دوسری قمیض بھی پہنی۔جبہ بھی پہنا دھوتی بھی پہنی ، پاجامہ بھی پہنا۔غرض لباس کے متعلق ساری احادیث لکھ کر انہوں نے کہا کہ اس سے ہر عقلمند آدمی کے نزدیک یہ نتیجہ نکلا کہ لباس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ جو بھی لباس کسی کو میسر آ جائے وہ پہن لے یہی اسلام کی روح ہے۔اسلام گندگی کو دور کرتا ہے لیکن اسلام اپنے ماننے والوں کو مشقت میں نہیں ڈالتا۔اسی طرح چلنے کے متعلق آداب سکھائے گئے ایک شخص پیچھے رہ گیا وہ نماز میں شامل ہونے