خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 134 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 134

خطابات ناصر جلد دوم ۱۳۴ اختتامی خطاب ۲۸ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء پیار کا ہمیں یہ نشان دکھایا کہ جلسہ میں سوالاکھ سے زیادہ احمدی اکٹھے ہو گئے اور ان میں ہمارے وہ دوست بھی شامل ہیں جو ابھی احمدی نہیں ہوئے۔اسلام ایک کامل مذہب ہے خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ اعلان فرمایا۔اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ ( المايدة : ٤) اور خود قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے انسان کو مخاطب کر کے ہے اعلان فرمایا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ للعالمین ہیں یہ کامل اور مکمل مذہب محض چند باتوں کا نام نہیں جیسا کہ عام طور پر لوگوں کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ کوئی زائد یا وسیع ذمہ داریاں نہیں بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نماز پڑھ لی خواہ اوپرے منہ ہی سے نماز کے کلمات کہہ دیئے۔یا روزے رکھ لئے خواہ پراٹھے کھا کر ہی کیوں نہ رکھے ہوں ، اگر زکوۃ کی توفیق ہوئی تو زکوۃ دے دی اور اگر حج کی توفیق ہوئی تو حج کر لیا زبان سے صرف کلمہ پڑھ لیا اور یہی گویا کافی ہو گیا یا بعض اخلاق کے متعلق چند باتیں ذہن میں ہوتی ہیں لوگ ان کا نام لے دیتے ہیں حالانکہ یہی باتیں تو انسانی زندگی کا کمال نہیں اور نہ ہی یہ باتیں ان قوتوں اور طاقتوں کا احاطہ کر سکتی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اسلام بنیادی طور پر دو چیزوں میں منقسم ہے ایک تو حقوق اللہ ہیں جنہیں انسان کو ادا کرنا چاہئے اور ایک انسان کے حقوق ہیں جن کی طرف توجہ کرنی چاہئے جب یہ پورے طور پر ادا ہو جائیں تو انسان پورے طور پر اور کامل طور پر مسلمان بن جاتا ہے۔جہاں تک حقوق اللہ کا سوال ہے اس سلسلہ میں میں اس وقت تفصیل میں تو نہیں جاؤں گالیکن اس کا جو آئیڈیل ہے یعنی جیسا کہ ہر ایک کو بنے کی کوشش کرنی چاہئے وہ بیان کروں گا تاہم ہر شخص اپنے دائرہ استعداد کے اندر رہتے ہوئے ان مدارج کو طے کرتا اور خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرتا ہے۔میں اس بات کو واضح کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پڑھوں گا۔آپ فرماتے ہیں:۔”انسان کا اپنی ذات کو اپنے تمام قوی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دینا اور پھر اپنی معرفت کو احسان کی حد تک پہنچا دینا یعنی ایسا پردہ غفلت درمیان سے اٹھانا کہ گویا خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے یہی اسلام ہے پس ایک شخص کو مسلمان اس وقت کہہ سکتے ہیں کہ