خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 133 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 133

خطابات ناصر جلد دوم ۱۳۳ اختتامی خطاب ۲۸ ؍ دسمبر ۱۹۷۵ء جماعت کو اسلامی آداب و اخلاق کے بارہ میں متوجہ کرنے کے عظیم علمی جہاد کا اعلان اختتامی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۵ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج صبح کے اجلاس میں جب بارش ہو رہی تھی تو منتظمین جلسہ نے مجھ سے پوچھا کہ جانے کا کیا پروگرام ہوگا۔مجھے شبہ پڑا کہ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر بارش اسی طرح جاری رہی تو میں جلسہ گاہ میں نہیں جاؤں گا۔میں نے ان سے کہا کہ خواہ موسلا دھار بارش ہی کیوں نہ ہو رہی ہو میں جلسہ گاہ میں ضرور جاؤں گا اور اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر اس بارش کا مزہ لوں گا۔جب بارش ہو رہی تھی۔اس وقت احباب نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے یہاں بیٹھ کر دین اسلام جو قیامت تک زندہ رہنے والا مذہب ہے اس کی باتیں سنیں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار کا ہمیں یہ جلوہ دکھایا کہ بارش بند ہوگئی اور موسم بڑا اچھا ہو گیا۔پس آؤ ہم سب مل کر خدا تعالیٰ کی حمد میں اس کی تکبیر کا نعرہ لگائیں ( اس موقع پر نعرہ ہائے تکبیر اور دوسرے نعروں سے جلسہ گاہ گونج اٹھی ) جیسا کہ میں نے پہلے دن بتایا تھا اس سال سفر کی سہولتیں مناسب طور پر میسر نہیں تھیں۔بعض لوگوں کا شاید یہ خیال ہو کہ جلسہ میں اس دفعہ کم احمدی شامل ہوں گے اور انہیں ہنسی کا موقع ملے گا۔کل کی حاضری ( اور آج اس سے زیادہ ہے ) زنانہ اور مردانہ جلسہ گاہ کے اندر کی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک لاکھ ایک ہزار سات سو سے زائد ہے۔جلسہ گاہ میں بیٹھنے کے مختلف احاطے۔ہوئے ہیں ان میں ہمارے رضا کار گنتی کرتے ہیں اور ان اعداد و شمار میں وہ ہزاروں دوست شامل نہیں جو جلسہ گاہ سے باہر بیٹھے جلسہ سن رہے ہوتے ہیں اور ہمارے وہ ہزاروں احمدی دوست جن میں بڑی بھاری تعداد ربوہ میں رہنے والوں کی بھی ہے اپنی اپنی جگہ پر اپنی ڈیوٹیوں پر کھڑے ہوتے ہیں میرا اندازہ یہ ہے کہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے اللہ تعالیٰ نے اپنے