خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 115
خطابات ناصر جلد دوم ۱۱۵ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء سے کام لیا گیا ہے میرے خیال میں وہ بھی کم ہیں۔دفتر کو چاہئے کہ اس کی طرف توجہ دے۔تحریک جدید تحریک جدید کو۱۹۳۴ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے شروع کیا تھا اور جیسا کہ الہی سلسلوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک ہے اُس وقت کے لحاظ سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساڑھے ستائیس ہزار روپے کی تحریک کی تھی لیکن جماعت نے ایک لاکھ روپیہ پیش کر دیا تھا۔آپ سوچیں اور شکر کریں کہ ایک وہ بھی زمانہ تھا اور اس پر کوئی زیادہ لمبا عرصہ نہیں گزرا اور اب دو سال ہوئے کہ میں نے صد سالہ جو بلی فنڈ کے لئے ساڑھے ستائیس ہزار کی تحریک پیش نہیں کی بلکہ میں نے اڑھائی کروڑ روپے کی تحریک پیش کی اور جماعت نے دس کروڑ سے زیادہ کے وعدے پیش کر دیئے۔اللہ تعالیٰ بڑی برکت ڈال رہا ہے۔اُس وقت متحدہ ہندوستان تھا۔چنانچہ اس وقت تحریک جدید نے ہندوستان سے باہر ساری دنیا میں زندہ اور حسین اسلام کی بنیادیں ڈالنے کے لئے جو کام کیا اس میں ہمیں خدا تعالیٰ کی شان نظر آتی ہے۔بڑی برکتوں والا کام اس تحریک نے کیا۔شروع میں جو مخلص باہر گئے انہوں نے بڑی قربانیاں دیں۔میں جب افریقہ گیا تو ایک مبلغ کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ وہ بعض دفعہ کتابوں کی گھڑی اپنے سر پر رکھتے تھے اور کسی گاؤں میں چلے جاتے تھے گاؤں والوں کو کوئی پتہ نہیں ہوتا تھا وہ کہتے کہ تم یہاں کہاں آگئے ہو چلو! ہم تو تمہیں یہاں رات رہنے کی بھی اجازت نہیں دیتے۔وہ کہتے ٹھیک ہے جو تمہاری مرضی میں فتنہ پیدا کرنے نہیں آیا اور وہ اگلے گاؤں میں چلے جاتے وہ گاؤں بھی ان کو کہتا کہ ہم بھی تمہیں رات رکھنے کے لئے تیار نہیں ہیں وہ کہتے ٹھیک ہے پھر وہ تیسرے گاؤں میں چلے جاتے پھر چوتھے میں چلے جاتے۔آخر کوئی نہ کوئی بھلا مانس خدا کا بندہ کہتا کہ اچھا ہمارے پاس بطور مہمان ٹھہر جاؤ۔وہ رات وہاں ٹھہرتے ، باتیں کرتے ، اور پھر وہ میزبان یا کوئی اور شخص وہاں احمدی ہو جاتا اور وہاں پر ایک جماعت کی بنیاد قائم ہو جاتی۔تحریک جدید نے وہاں جو کام کیا ہے اگر اس کی تفصیل میں میں جاؤں تو بہت لمبا وقت لگے گا لیکن سیرالیون کے سابق نائب وزیر اعظم نے جو بات کہی وہ در حقیقت اس کے کام کا خلاصہ ہے۔جب میں نے سیرالیون کا دورہ کیا تو وہاں کے سابق نائب وزیراعظم