خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 114
خطابات ناصر جلد دوم ۱۱۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء اس طرح سال رواں کے لئے منظور ہوئی ہے اور یہ رقم دی جا چکی ہے کیونکہ اس کا وقت ختم ہو گیا ہے۔سوائے ویلفیئر فنڈ یعنی علاج کی رقم کے۔کیونکہ وہ تو جو جنوری میں بیمار ہو گا وہ جنوری میں ہی اس سے فائدہ اُٹھائے گا لیکن جہاں تک گندم اور موسم سرما کی امداد کا تعلق ہے وہ عملاً ان کو مل چکی ہے اور پھر دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے ذریعہ سے ایک لاکھ پینتیس ہزارسولہ روپے تقسیم کئے گئے ہیں۔مثلاً میں عید سے پہلے ان کو کہہ کر محلے کے صدر صاحبان سے اندازہ لگواتا ہوں کیونکہ بہت سے غریب گھر ہوتے ہیں اور ان بیچاروں کے پاس صاف ستھرے کپڑے بھی نہیں ہوتے۔چنانچہ ان کو کپڑوں کے لئے اور دوسری ضروریات کے لئے کچھ مددمل جاتی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ کافی ہے اور ساری ضرورتیں پوری کر دیتی ہے۔میں یہ بتا رہا ہوں کہ ہم غافل نہیں ہیں جتنا ہم سے ہوسکتا ہے اتنا ہو جاتا ہے یہ ساری رقم قریباً پانچ لاکھ روپیہ بن جاتی ہے۔جو کہ اس طرح امداد میں مل رہی ہے۔یہ امدا د صدرانجمن احمدیہ کی طرف سے ہے وکالت مال تحریک جدید کی طرف سے جو مختلف قسم کی امداد دی جاتی ہے وہ ایک لاکھ اسی ہزار روپے اس کے علاوہ ہیں اور اسی طرح وقف جدید کی طرف سے بھی امداد دی جاتی ہے۔ہم نے وقفِ عارضی کا ایک نظام قائم کیا تھا اور وہ یہ تھا کہ احمدی احباب تربیت کی غرض سے دو ہفتے کے لئے وقف کر کے دوسری جگہ جائیں کسی پر بار نہ بنیں۔اپنا کھانا بھی آپ پکا ئیں وہاں نیکی کی تلقین کریں اور اپنا نمونہ دکھا ئیں اور اس چیز سے بڑا فائدہ ہوا ہے۔پانچ سالہ دور ثانی میں اس سکیم میں بائیس ہزار دوسوستر واقف شامل ہوئے۔سارے تو نہ شامل ہوئے نہ ہو سکتے ہیں۔دور ثالث میں جو کہ ۱۹۷۴ء سے شروع ہوا ہے جماعت کو اس کی طرف کم توجہ ہے۔اس سکیم میں آپ کو بھی فائدہ ہے یہ آپ کے اپنے نفس کی تربیت کے لئے مفید ہے اور آپ کے بھائیوں کو بھی اس میں فائدہ ہے۔اس طرف جماعت کو توجہ دینی چاہئے۔ایک تحریک میں نے یہ کی تھی کہ ایسے دوست جو کہیں ملازم ہیں وہ اپنے نام وقف بعد از ریٹائرمنٹ کے لئے پیش کریں یعنی یہ وقف کریں کہ جب وہ ریٹائر ہو جائیں گے تو اس وقت اگر سلسلہ ان سے خدمت لینا چاہے تو وہ سلسلے کی خدمت کریں گے۔اس کے لئے ایک سو چھیالیس دوستوں نے نام پیش کئے تھے جو میرے خیال میں کم ہیں۔ان میں بیالیس ریٹائر ہو چکے ہیں اور اس میں سے جتنوں