خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 112 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 112

خطابات ناصر جلد دوم ۱۱۲ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء اس موقع پر غانا کی جماعتوں نے بھی ایک سکالرشپ دیا۔اس کا اعلان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا 'پانچواں سکالرشپ غانا کی جماعتوں نے ایک سکالر پیش کیا ہے یہ بھی احمدی سکالرشپ ہے۔یہ اپنا بچہ بھی تیار کریں جو باہر جا کر پڑھےاور اپنے ملک میں آئے۔) آپ جانتے ہیں کہ ساری دنیا میں مہنگائی ہو گئی ہے یہ صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے۔بعض جگہ تو inflation کی وجہ سے مہنگائی ہے۔لیکن ہمارے ہاں مہنگائی دوطور پر ہے۔ایک تو ساری دنیا کا اثر پڑتا ہے اور اس سے تو چھٹکارا نہیں ہے اور دوسرے نا اہلیت کی وجہ سے مہنگائی ہے۔اتنی نا اہلیت ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے میں رات کو پڑھنے کا عادی ہوں اور بہت دیر تک پڑھتا رہتا ہوں۔ایک دن میرے سرہانے کا بلب فیوز ہو گیا۔میں نے دفتر سے ایک اور بلب منگوایا اور اپنے ہاتھ سے پہلا بلب اتارا اور دوسرا لگا کر جس وقت آن کیا تو وہ دو سیکنڈ بھی نہیں جلا۔ایک سیکنڈ کے بعد وہ بھی فیوز ہو گیا۔اب اس کی قیمت چار روپے ہے۔میں نے سوچا کہ یہ جو بیچارے غریب زمینداروں کو ابھی مالیہ کی رعایت دی گئی ہے اگر ان کا کوئی بچہ پڑھنے والا ہو اور وہ رات کو بلب جلا تا ہوتو جتنا ان کو فائدہ ہوا ہے اس سے دس گنا زیادہ ان کا بلبوں کے اوپر ہی خرچ ہو رہا ہے۔بلبوں کا اس سے بھی بڑا لطیفہ یہ ہے۔میں نے ایک بلب کھولا تو اس میں جو تار ہوتی ہے جو کہ جلتی ہے وہ کارخانے نے لگائی ہی نہیں تھی اور پیک کر کے بھجوا دیا تھا۔اب کوئی تو ہمارے ملک میں ایسا محکمہ ہونا چاہئے جو یہ دیکھے کہ کارخانے جو چیز میں تیار کرتے ہیں ان کا کوئی معیار بھی ہے؟ یا یہ ہے کہ ہر پاکستانی کو جرمانے ہی کرتے رہنا ہے ہر لحاظ سے۔بہر حال ذکر یہ ہے کہ ہمارے جو صدرانجمن احمدیہ کے کارکن ہیں۔مبلغ بھی، کلرک بھی اور دوسرے بھی وہ بڑی قربانی دے رہے ہیں اور باہر کے دوست بھی بڑی قربانی دے رہے ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ ہمارے ملک میں تو جن کا ایک بچہ بھی پڑھنے والا ہے وہ بلبوں کے لحاظ سے ہی بڑی قربانی دے رہے ہیں۔مالی لحاظ سے بڑی تنگی ہے اور ساری ضرورتیں پوری کرنے کے تو ہم قابل ہی نہیں ہیں۔اگر ہم اس قابل ہوں تو ایک سیکنڈ کے لئے بھی ہمیں ہچکچاہٹ نہ ہو اور ہم سب ضرورتیں پوری کر دیں۔تا ہم جہاں تک ممکن ہے جماعتی نظام ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔مثلاً صد را انجمن احمدیہ کی طرف سے اپنے کارکنوں کو ایک خاص اصول اور دستور کے مطابق ضرورت کا