خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 108
خطابات ناصر جلد دوم ۱۰۸ دوسرے روز کا خطاب ۲۷؍ دسمبر ۱۹۷۵ء ہوا ہے۔سوائے ایک دو پرچوں کے جن کا امتحان نہیں ہوا یعنی یہ نہیں کہ اس نے کم نمبر لئے ہیں ان پر چوں کا امتحان انشاء اللہ اگلے مہینے یعنی جنوری میں ہوگا۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے اور ان میں بھی وہ بہت اچھے نمبر لے۔بہر حال پہلے امتحان میں وہ بڑے اچھے نمبر لے کر پاس ہوا ہے چنانچہ وہ لوگ جو کہتے تھے کہ ہمیں ہماری زبان میں شاہد دو اب تین چار سال تک ان کی زبان میں بھی شاہد ہو جائے گا لیکن دنیا میں تو سو سے زیادہ زبانیں ہیں اور ہر زبان زبانِ حال سے پکار کر جماعت احمدیہ کو یہ کہہ رہی ہیں کہ مجھے میری زبان میں اسلام سکھانے والا دو تا کہ ہم اس نعمت سے محروم نہ رہ جائیں۔پس اس طرف جماعت کو توجہ دینی چاہئے خصوصاً اُن نوجوانوں کو کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے ذہن دیئے ہیں۔یہ شرط ہے کہ جو بچے ذہین ہیں وہ آئیں کیونکہ خواہش اور چیز ہے اور ذہن اور چیز ہے۔میں نے پہلے بھی شاید کسی موقع پر کہا تھا کہ ہمارا ایک بچہ تھا جس کو پڑھائی کا بڑا شوق تھا اس نے غالباً ایف اے کا امتحان دینا تھا اور وہ ہر دفعہ امتحان سے پہلے مجھے لکھتا تھا کہ دعا کریں کہ میں یونیورسٹی میں فرسٹ آ جاؤں اور وہ فیل ہو جاتا تھا پھر اگلے سال یہی دعا کرنے کے لئے لکھتا تھا۔میں سمجھتا تھا کہ اس کی ایک خواہش ہے لیکن اس کے مطابق ذہن نہیں ہے۔پس ایسی خواہشیں ہمارے پاس نہیں آنی چاہئیں بلکہ صاحب فراست اور نور رکھنے والے ذہن ہمارے پاس آنے چاہئیں اور پھر اگر ایک فزکس کا ذہن ہے تو اس کو میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ قرآن کریم کا ترجمہ کر۔بلکہ اس کو میں یہ کہوں گا کہ تو فزکس میں چوٹی پر پہنچ اور اس میں مہارت حاصل کر اور اگر کوئی فزکس کا ماہر اسلام پر حملہ کرے تو تجھے اتنا علم ہونا چاہئے کہ تم اسے کہو کہ تم غلط کہ رہے۔اور اسے بتاؤ کہ خدا یہ کہتا ہے اور دلیل سے ثابت کرو کہ واقعی وہ شخص غلط کہہ رہا ہے اور اسلام کی تعلیم ہی حق اور صداقت ہے اسی طرح ایک زباندان کو میں نے یہ تو نہیں کہنا کہ اگر کیمسٹری کے نقطہ نظر سے کوئی اعتراض ہو تو تم جا کر اس کا جواب دو۔بلکہ ہر ایک کا میدان مختلف ہے۔کسی کو خدا تعالیٰ نے ایک قسم کا ذہن دیا ہے اور کسی کو دوسری قسم کا ذہن دیا ہے لیکن بہر حال ہر میدان میں جو سب سے آگے بڑھے ہوئے ہیں وہ احمدی ہونے چاہئیں اور اس نیت کے ساتھ ہونے چاہئیں کہ ہم اپنا کام تو کریں گے ہی ( مثلاً فزکس والے نے اپنا کام کرنا ہے ) لیکن جب بھی علومِ جدیدہ میں