خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 104 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 104

خطابات ناصر جلد دوم ۱۰۴ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء ایسی بات کہی کہ ہمارے لئے ڈوب مرنے کا مقام تھا۔اس نے کہا کہ بات یہ ہے کہ تم ہماری زبان میں تو تبلیغ نہیں کرتے۔ہم میں سے جو لوگ کسی قدر انگریزی سمجھتے ہیں انہوں نے احمدیت کی اصولی باتیں سمجھی ہیں۔ہمارے سامنے مہدی علیہ السلام کے متعلق پیشگوئیاں رکھی گئیں۔ہم نے ان پر غور کیا اور دعائیں کیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں احمدیت قبول کرنے کی توفیق دے دی لیکن ان کا کہنا تھا کہ اگر تم ہماری زبان میں ہمیں مبلغ دو تو یورپ میں جو چھ لاکھ یوگوسلا و مزدوری کرتے پھرتے ہیں یہ سارے ہی احمدی ہو جائیں گے۔اس لئے کہ اسلام کی جو حسین تعلیم جس حسین رنگ میں جماعت احمد یہ ہمارے سامنے پیش کرتی ہے وہ ہم نے اپنی کتابوں میں تو پہلے نہیں دیکھی۔یوگوسلاویہ میں دو زبانیں بولی جاتی ہیں اگر ہر زبان کا ایک ایک عالم بھی ہو تو وہاں کے لئے کم از کم دو عالم چاہئیں۔اب ہمیں بڑی مشکل پڑتی ہے مثلاً جرمن زبان جاننے والے اتنے تھوڑے ہیں کہ جس مبلغ کو واپس آنا چاہئے اس کو ہم بعض دفعہ واپس نہیں بلاتے بڑی الجھنیں ہیں اور وہ لوگ بڑی قربانیاں دے رہے ہیں آپ بھی اپنے مبلغوں کی قدر نہیں کرتے۔ایک شخص اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر جاتا ہے ہم کہتے ہیں کہ تین سال کے بعد تمہیں واپس بلا لیں گے تم تین سال کے لئے قربانی دو اور اپنے بیوی بچوں کو یہاں چھوڑ جاؤ لیکن تین سال گزر جاتے ہیں اور ہمیں اس کی جگہ جرمن زبان جانے والا کوئی نہیں ملتا اور پھر اس کو چار سال پانچ سال اور بعض دفعہ چھ سال لگانے پڑتے ہیں اور وہ لوگ یہ قربانی دے رہے ہیں۔اب تو نسبتا سہولت ہو گئی ہے لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا کہ نذیر احمد صاحب مبشر نے چودہ سال باہر گزار دیئے یا شاید اس سے بھی زیادہ۔وہ نکاح کرا کے باہر گئے تھے اور بوڑھے ہو کر واپس آئے اور رخصتانہ کرایا۔پس ایسی قربانیاں دینے والے بھی ہیں۔غرض ہمیں عالموں کی اشد ضرورت ہے۔اب امریکہ دنیوی علم کے لحاظ سے بہت آگے نکلا ہوا ہے لیکن ان کو جو دنیوی علوم حاصل ہیں ان کے اندر خامیاں اور نقص اور تضاد ہیں لیکن ان کو اس کا علم نہیں ہے اور نہ اس نگاہ سے وہ دیکھتے ہیں اس کا علم تو سوائے احمدی عالم کے اور کسی کو نہیں ہو سکتا۔بعض دفعہ میں مذاق مذاق میں دو چار باتیں کر جاتا ہوں تو سامنے والے آدمی حیران ہو جاتے ہیں کہ اچھا آپس میں اس قدر تضاد ہے۔آپ امریکہ اور انگلستان کا ایک ہی پروفیشن (Profession) لے لیں مثلاً ڈاکٹری ہے۔انگلستان کا ڈاکٹر کہتا