خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 103 of 646

خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 103

خطابات ناصر جلد دوم ۱۰۳ دوسرے روز کا خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۵ء اور کسی وقت میں پانچ چھ ہو جائیں گے اگر پانچ وظیفے ہوں تو یہ قریباً اسی۔نوے ہزار روپے کی رقم بن جاتی ہے ٹھیک ہے۔جو اہل ہے وہ آئے اور ترقی کرے۔Ph۔D کرے اور واپس آ کر اپنی قوم کی خدمت کرے۔ہم نے اپنے اخلاق کو نہیں گرنے دینا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی نگاہ میں ہمیں بڑی عزت اور احترام کا مقام دیا ہے۔ہم تو اس قابل نہیں ہیں۔یہ اس کی عطا ہے، اس کی مہربانی ہے اور اس کی رحمت ہے لیکن ہم اس کے ناشکرے بندے نہیں بننا چاہتے اور قوم کو بھی یہی پیار کا سبق دینا چاہتے ہیں۔اس لئے ہمارے اوپن میرٹ سکالرشپ میں یہ نہیں ہوگا کہ یہ فلاں فرقے کے لئے ہیں اور فلاں کے لئے نہیں اور یہ کہ اس میں احمدیوں کو یا بریلویوں کو یا دیو بندیوں کو ترجیح دی جائے گی۔بلکہ ہمارے سکالرشپ حقیقی معنی میں اوپن میرٹ سکالرشپ ہوں گے یعنی کھلے ہوں گے اور اہلیت کے معیار پر دئیے جائیں گے۔اس کے علاوہ چونکہ ہمارے بچوں کا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ حق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو ذہنی طاقتیں دی ہیں ان کی کامل نشو و نما کا انتظام کیا جائے اس واسطے میں نے پچھلے سال بھی اعلان کیا تھا کہ ہر بچہ جو ذہین ہے جماعت اس کی ذہانت کو ضائع نہیں ہونے دے گی چاہے اس کے لئے جماعت کو کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔ان بچوں کو سنبھالنا ساری دنیا کی جماعتہائے احمدیہ کا فرض ہے اور چونکہ کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس غیر ملکی سرمایہ نہیں فارن ایکیھنچ نہیں ہے۔ہمیں اس کی بھی فکر نہیں۔کیونکہ اگر ہم یہاں سے پیسہ نہیں بھیج سکیں گے تو باہر کی جماعتیں اس بوجھ کو اٹھا ئیں گی اور جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے ایک سکالرشپ تو انگلستان نے دیا ہے، امریکہ سکالرشپ دے گا اور افریقہ جس کو تم آج تک حقارت کی نظر سے دیکھتے رہے ہو۔وہ تمہاری ذہانتوں کو سنبھالنے کے لئے پیسے خرچ کرے گا۔اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے جماعت کے اندر جو خدمت کا جذبہ پیدا کیا ہے اس کا اظہار اسی طرح ہوتا ہے۔ہمیں اس وقت ہر قسم کے عالموں مثلاً زبان دانوں ، سائنسدانوں، فلسفہ دانوں وغیرہ کی بے حد ضرورت ہے آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ یہ بات میرے لئے کتنی پریشانی کا باعث ہوتی ہے سوئٹزر لینڈ میں بہت سارے یوگوسلا و مزدوری کرنے کے لئے آئے ہوئے ہیں وہاں پر ایک جگہ ان کے اتنی خاندان احمدیت میں داخل ہوئے ہیں اور ان میں سے ایک سمجھ دار شخص نے ایک