خطاباتِ ناصر (جلد دوم ۔1974ءتا 1981ء) — Page 89
خطابات ناصر جلد دوم ۸۹ افتتاحی خطاب ۲۶؍دسمبر ۱۹۷۵ء اے میرے اللہ میں تیری رضا کی خاطر اسلام لایا اور تجھ پر ایمان لایا۔میرا تو کل اور بھروسہ تھی پر ہے میں تیری طرف ہی جھکتا ہوں اور تیری قائم کردہ حدود کے اندر دوسروں سے میرا مقابلہ ہے۔نفسانی خواہشات کے نتیجہ میں میری کسی سے مخاصمت نہیں۔اے میرے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔تجھے تیری ہی عزت کا واسطہ مجھے گمراہی سے بچا۔تو ہی زندہ ہے تجھ پر کبھی موت نہیں آئے گی اور جنّ و انس سب ہی جاندار مرنے والے ہیں۔اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا بھی فرمایا کرتے تھے:۔اَللّهُمَّ اجْعَلُ فِي قَلْبِى نُورًا، وَفِي لِسَانِى نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمُعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِى نُورًا، وَعَنْ يَسَارِى نُورًا، وَمِنْ فَوْقِى نُورًا، وَمِنْ تَحْتِى نُورًا، وَمِنْ امَامِي نُورًا، وَمِنْ خَلْفِى نُورًا، وَاجْعَلُ لِي فِي نَفْسِي نُورًا، وَأَعْظِمُ لِى نُورًا۔(الجامع الصغير روایت ۱۵۱۳ صفحه ۹۴ جلد ۱ تا ۲) اے میرے اللہ میرے دل کو اپنے نور سے بھر دے، میری زبان کو حسن بیان عطا کر ، میری آنکھوں کو نور بصیرت اور نور بصارت دے اور مجھے حسن سماع کی توفیق عطا کر۔میرے دائیں اور میرے بائیں میرے اوپر اور میرے نیچے نور ہی نور پیدا کر دے۔میرے آگے اور میرے پیچھے نور ہی نور ہو۔میری روح کی گہرائیوں میں تیرا نور ہی موجزن رہے۔مجھے بے حد نور عطا کر۔اسی طرح ایک اور دعا انہوں نے الجامع الصغیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھی ہے:۔اللَّهُمَّ طَهَرُ قَلْبِى مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِى مِنَ الرِّيَاءِ وَلِسَانِي مِنَ الْكَذِبِ وَعَيْنِيْ مِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّكَ تَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ - (الجامع الصغير روایت ۵۲۹ صفحه ۹۵ جلد۲،۱) اے میرے اللہ میرے دل کو نفاق سے، میرے عمل کو ریا سے، میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھ کو خیانت سے پاک کر دے کیونکہ تو آنکھوں کی خیانت اور دلوں کی مخفی باتوں کو خوب جانتا ہے۔