خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 68
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۸ ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب میری مددگار ہوں گی۔میں خیالی طور پر نہیں کامل یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ ان کاموں کی تکمیل واجراء کے لئے کسی محاسب کی تحریکیں کام نہیں دیں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود سے خود وعدہ کیا ہے کہ يَنصُرُكَ رِجالٌ نُوحِی إِلَيْهِمُ تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کو ہم وحی کریں گے پس ہمارے محاسب کا عہدہ خود خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور وعدہ فرمایا ہے کہ روپیہ دینے کی تحریک ہم خود لوگوں کے دلوں میں کریں گے۔ہاں جمع کا لفظ استعمال کر کے بتایا کہ بعض انسان بھی ہماری اس تحریک کو پھیلا کر ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔پس خدا آپ ہی ہمارا محاسب اور محصل ہو گا۔اسی کے پاس ہمارے سب خزانے ہیں ہاں ثواب کا ایک موقع ہے۔مبارک وہ جو اس نے فائدہ اٹھاتا ہے“ منصب خلافت۔انوار العلوم جلد نمبر ۲ صفحه ۳۵ تا ۳۸) پیشگوئی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ اپنے کاموں میں اولوالعزم ہوگا“ مرد مومن کا عزم کل کی بنیادوں پر بلند ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ (ال عمران : ١٦٠) عزم اور تو کل میں بڑا گہرا تعلق ہو ہے دراصل یہ ایک ہی چیز کے دوسرے ہیں اور جہاں تک ہم نے حضرت مصلح موعود کی زندگی کا مشاہدہ کیا ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا خود بھی شاہد ہے اور ہم بھی اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ ہمارا محبوب مصلح موعود تو کل کے ایک بلند مقام پر فائز تھا۔قوت تو کل اور نور معرفت اُسے ایسے تھامے تھا کہ بسا اوقات بے سروسامان ہوتے ہوئے اور اسباب عادیہ سے خالی ہاتھ ہوتے ہوئے بھی بشاشت اور انشراح صدر سے اس نے زندگی بسر کی نامساعد حالات میں بھی اُس نے ایسی خوشی سے دن گزارے کہ گویا اس کے پاس ہزاروں خزائن ہیں۔ایسے حالات میں بھی ” صاحب دولت ہونے کی مستقل مزاجی دنیا نے آپ کے چہرہ پر دیکھی اور تنگی کی حالت میں بھی بکمال کشادہ دلی اور یقین کامل اپنے مولیٰ کریم پر بھروسہ رکھا۔سیرت ایثار آپ کا مشرب تھا اور خدمت خلق آپ کی عادت، ہزار ہا غرباء کو آپ نے سہارا دیا۔ہزار ہا تیموں کی پرورش کی بے سہارا طلبہ کو تعلیم دلوائی بے سہارا بچوں کی شادیاں کروائیں اور یوں