خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 64 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 64

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۴ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب تھی جور بوہ میں بیٹھا تھا۔اس کی نورانی کرنیں ایک طرف افریقہ کے ممالک میں پہنچ رہی تھیں اور دوسری طرف یورپ اور امریکہ کے ممالک کو روشن کر رہی تھیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو کچھ کہا تھا وہ لفظ بلفظ پورا ہوا کہ۔وو وو وہ اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا“ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی“ آپ یہ سن کر خوش ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بیرونِ ممالک میں قائم ہونے والی جماعتوں میں سے بعض اپنی قربانیوں میں ہم سے کم نہیں مثلاً انڈونیشیا کے چندہ دہندگان کی تعداد قریباً پاکستان کے چندہ دہندگان کے برابر ہوتی جارہی ہے۔اسی طرح افریقین ممالک میں بڑی قربانی کرنے والی جماعتیں ہیں وہ مالی قربانیاں بھی کرتی ہیں ، وقت کی قربانیاں بھی کرتی ہیں اور عبادت گزار بھی ہیں۔ان لوگوں کا نمونہ اور اللہ تعالیٰ کا ان کے ساتھ جو سلوک ہے وہ غیروں کو اسلام کی طرف کھینچنے والا اور جذب کرنے والا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں ایک اور بات بھی بتائی ہے کہ ”ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے، اس کے کئی معنے ہو سکتے ہیں۔مثلاً روح کے ایک معنے قرآنی محاورہ میں یہ ہیں کہ وہ کلام جو اُخروی حیات کا سبب اور ایک ذریعہ ہو۔گویا قرآنی محاورہ میں روح قرآن کریم کو کہا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا (الشورى ۵۳) اور ہم نے مشاہدہ کیا کہ یہ مرتبہ عالیہ حضرت مصلح موعودؓ کو بکمال حاصل تھا۔خدا تعالیٰ۔آپ کی معرفت کو اور آپ کی خدا شناسی کو بذریعہ کشوف صادقہ اور الہامات صریحہ اور مکالمات و مخاطبات کمال تک پہنچا دیا ہوا تھا۔چنانچہ سرسری تحقیق کے بعد جو علم مجھے حاصل ہوا ہے یہ ہے کہ حضور کے رویائے صالحہ اور کشوف کی مجموعی تعداد کم و بیش پانچ سو اور حضور کے الہامات کی تعداد ۸۸ کے قریب ہے۔غرض یہ ایک بڑا مجموعہ ہے اور ابھی تو یہ محض سرسری ہے بہت ممکن ہے ان کی تعداد