خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 63 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 63

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۳ ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت سے سرشار ہیں۔ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن سے خدا تعالیٰ ہم کلام ہوتا ہے بہت سے ایسے ہیں جنہیں بچی خوا ہیں آتی ہیں اور ہر رنگ میں وہ روحانی نعمتوں سے مالا مال ہیں۔حضور کے وصال پر ان احباب کی طرف سے جو خطوط ملے ہیں ان سے ان کے اخلاص کا علم ہوتا ہے ان خدا رسیدہ لوگوں میں سے ایک کا خواب میں بطور نمونہ سناتا ہوں تا وہ دوستوں کے از دیا دایمان کا موجب ہو۔وہ خدا رسیدہ اور دین اسلام کا ایک حبشی تھا جس کا رنگ سیاہ اور ہونٹ لٹکے ہوئے تھے دنیا کی مہذب قو میں اسے حقارت سے دیکھتی تھیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل خدا تعالیٰ کی نظر کرم اس پر پڑی اور وہ اس سے ہم کلام ہوا یہ ہیں ہمارے دوست امری عبیدی اور ان کا انتخاب میں نے اس لئے بھی کیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ ہوا جوانی کی عمر میں فوت ہو گئے ہیں یہ دوست احمدیت کے شیدائی اور فدائی تھے ربوہ میں بھی کچھ عرصہ رہ کر گئے ہیں وہ خواب بین انسان تھے انہیں بڑی واضح اور سچی خوا ہیں خدا تعالیٰ نے دکھا ئیں۔ایک دفعہ انہوں نے سنایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مسٹر جولیس نرمیرے (Mr۔Julius Nyerere) کرسی پر بیٹھے ہیں مجھے دیکھ کر وہ کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کرسی پر مجھے بٹھا دیا کچھ عرصہ تک وہ اس کی کوئی اور تعبیر سمجھتے رہے لیکن یہ خواب اس طرح پوری ہوئی کہ آزادی کے بعد لیجسٹو کونسل (Legistive Council) بنی اس کے افریقن ممبران کی ایک سوسائٹی تھی اور جو لیس نریرے جوٹا نگانیکا افریقن نیشنل یونین کے پریذیڈنٹ ہونے کے باعث لیجسٹو کونسل (Legistive Council) کی افریقن پارٹی کے لیڈر تھے اس سوسائٹی کے صدر تھے۔دوسرے سال جب سوسائٹی کا انتخاب ہوا۔تو مسٹر جولیس نریرے کو دوبارہ صدر چن لیا گیا سوسائٹی کے اس اجلاس میں مسٹر جو لیس نمیرے موجود نہیں تھے۔انہیں اطلاع بھجوائی گئی چنانچہ وہ آئے انہوں نے آ کر شیخ امری عبیدی کو جو اس وقت لیجسٹو کونسل کے ممبر بن چکے تھے بازو سے پکڑا اور کرسی پر بٹھا دیا اور کہا کہ یہ آپ کے چیئر مین ہیں۔گویا خواب میں جو کچھ انہوں نے دیکھا تھا۔خدا تعالیٰ نے اسے لفظ بلفظ پورا کر دیا اور یہ اسلام اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا نتیجہ تھا جسے دیکھ کر دوسرے لوگ اسلام کے گرویدہ ہو رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف مائل ہورہے ہیں خالی دلائل کے ساتھ یہ اخلاص پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے قوت قدسیہ کی ضرورت تھی اس نور کی ضرورت