خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 706 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 706

۲۶ ۱۹۱ ۱۹۴ دوران سال وفات پانے والے احباب ہر آواز جو مرکز احمدیت سے جماعت کی کے لئے دعائے مغفرت ۱۳۴، ۱۳۵ تربیت کے لئے اٹھتی ہے جماعت کو اس جماعت احمدیہ نے تمام ادیان کے مقابلہ میں طرف توجہ دینا پڑے گی اسلام کی حقانیت اور صداقت کو ثابت کرنا ہے ۱۶۷ ہم بے طاقت ہیں ہم میں کوئی علم نہیں اس اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل اور رحمتیں تم پر ہوں دنیا کے مقابلہ پر ہم کچھ بھی نہیں اور ساری دعائیں تمہارے حق میں قبول ہوں ۱۸۱ ہم تمہارے دل جیت کر اسلام کو پھیلائیں گے ۲۰۷ تم پاک دل اور مطہر نفس بن جاؤ اور نفس احمدیت یعنی حقیقی اسلام اصلاحی تحریک ہے امارہ کی پلید یاں تم سے دور ہو جائیں ۱۸۲ اور اس کا نصب العین دنیا کو قرآن کریم کی تکبر اور خود بینی اور خود نمائی اور خودستائی کا حقیقی تعلیم کی طرف واپس لانا ہے شیطان تمہارے سینہ کو چھوڑ کر بھاگ جائے تم خدا کی وہ جماعت ہو جسے اسلام کے اخلاق کا ہونا ضروری ہے ۱۸۲ خدا تعالی کی برگزیدہ جماعت میں بنیادی صفات، ۱۸۳ عالمگیر غلبہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے ہر آزمائش کے وقت رب کریم سے ثبات قدم والی بنیادی خوبیاں پیدا کرے ہر فر د جماعت کو چاہیئے کہ اپنے اندر صحابہ رسول ۱۸۳ جماعت احمدیہ میں پائی جانے والی نو بنیادی کی تو فیق پاؤ بس اسی کے ہو جاؤ تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان صفات کا تذکرہ خالی ہے ۱۸۳ ہم نے یہ نیت کی ہے کہ دنیا ادھر سے اُدھر ہو خدا کرے کہ تمہارے نفس کی دوزخ کلی طور جائے ہم انشاء اللہ اپنی ذمہ داری ک ضرور ۱۸۴ نبھائیں گے پر ٹھنڈی ہو جائے چوروں اور قزاقوں اور درندوں سے آج اسی جماعت احمدیہ کا کام بیت اللہ کی برکات کی جان محفوظ ہے جو اس قلعہ میں پناہ لیتا ہے ۱۸۴ سے ساری دنیا کومستفیض کرنا ہے اللہ تعالیٰ ہماری آمدنیوں کو اور ہمارے ہم نے ہر شخص کو محمد رسول اللہ ﷺ کا مطیع روپیہ کو نا جائز مصارف سے بچاتا ہے جس قوم نے ساری دنیا میں اسلام کو غالب شیطان خاموش نہیں بیٹھے گا طاغوتی قوتیں کرنا ہے اس کو ہر قسم کی عادت سے آزاد آپ کو مٹانے اور نا کام بنانے کے لئے ہر ۱۹۳۱۸۷ کوشش کریں گی رہنا چاہیے ۱۸۷ اور فرمانبردار بنانا ہے ۲۱۳ ۲۲۵ ۲۲۶،۲۲۵ ۲۲۷ ،۲۲۶ ۲۲۶ ۲۳۹ ۲۳۹