خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 705
۲۵ اللہ تعالیٰ احمد یوں کو توفیق بخشے کہ کسی بھی علمی جماعت احمد یہ بنی نوع انسان کی بہبود اور میدان میں جب بھی ان کے مقابلہ پر کوئی فلاح کے لئے ہر قسم کی تکالیف برداشت آئے وہ اس پر بھاری رہیں ۸۴ کرنے کے لئے تیار ہے جو عہد بیعت تم نے باندھا ہے خدا کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کو قربانی کے بلند معیار پر قائم کیا ہے ۸۷ تم ہمیشہ پختگی سے قائم رہو ہمارے رب کا یہی حکم ہے کہ گالی کے مقابلہ جماعت پر فرشتے نازل ہوئے اور انہوں میں گالی نہ دو تدریجی ترقی الہی سلسلہ ہونے کی دلیل ہے ہر نیا سورج ہمارے لئے ترقیات کے ساتھ چڑھا ہے ۹۳ ۹۳ ۹۴ نے جماعت کے دلوں میں تحریک کی اللہ تعالیٰ نے احمدی کو عقل اور فراست بڑی دی ہے جو قوم قربانی کر رہی ہو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ اس جماعت پر ہوتا ہے خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت بتا رہی ہے کہ ہمارے جوسلسلہ قربانیوں میں تیزی سے ترقی کر رہا ہو دنیا کی کونسی طاقت ہے جو اسے ہلاک کر سکے عقائد میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ۹۴ ۹۴ ۱۱۸ ۱۱۸ ۱۱۸ ۱۲۶ ۱۲۹ ۱۲۹ اگر ہمارے عقائد بدل جاتے تو خدا تعالیٰ کا اللہ تعالیٰ کے فرشتے امریکہ کے ہوائی جہازوں سے ہمارے ساتھ سلوک بھی بدل جاتا خلیفہ وقت سے آپ نے عہد بیعت کیا ہے کہ جو میں اس کی مدد کے لئے منڈلا رہے ہوتے ہیں ۱۲۹ جو کہ ویت نام پر منڈلا رہے ہیں زیادہ تعداد ۱۳۱ ۱۳۲ ۱۳۳ نیک کام بتائیں گے اس کی فرمابرداری کروں گا کی ذمہ داری صرف مرکزی جماعت پر تھی 1۔۔۱۰۵ جماعت احمدیہ کا فرض ہے کہ کوئی احمدی ۱۹۴۵ء تک تمام دنیا میں غلبہ اسلام کے کام رات کو بھوکا نہ سوئے ہم نیک باتوں میں حکومت وقت کا ساتھ دیتے ہیں آپ کا فرض ہے کہ حکومت سے تعاون پہلا اور بنیادی کام ہماری جماعت کا 1۔7 اشاعت قرآن ہے اپنی قربانیوں کے معیار کو اور قربانیوں کی کرتے ہوئے ملک میں امن صلح اور آتشی رفتار کو بڑھاؤ ۱۱۴ کی فضا قائم رکھیں ہماری جماعتی زندگی کا تعلق اپنی زندگیاں کوشش کریں کہ ہمارے اپنے دوست قرآن کریم کے مطابق ڈھالنے میں ہے ۱۱۸ اقتصادی اور زرعی میدان میں ترقی کریں