خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 58 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 58

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۸ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب مسئلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ نہیں کھولا۔مسئلہ نبوت ، مسئلہ کفر، مسئله خلافت، مسئله تقدیر، قرآنی ضروری امور کا انکشاف اسلامی اقتصادیات، اسلامی سیاسیات اور اسلامی معاشرت وغیرہ پر تیرہ سو سال سے کوئی وسیع مضمون موجود نہیں تھا۔مجھے خدا نے اس خدمت دین کی توفیق دی اور اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ہی ان مضامین کے متعلق قرآن کے معارف کھولے۔جن کو آج دوست دشمن سب نقل کر رہے ہیں۔مجھے کوئی لاکھ گالیاں دے۔مجھے لاکھ برا بھلا کہے۔جو شخص اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے لگے گا۔اسے میرا خوشہ چیں ہونا پڑے گا اور وہ میرے احسان سے کبھی باہر نہیں جاسکے گا چاہے پیغامی ہوں یا مصری۔ان کی اولادیں جب بھی دین کی خدمت کا ارادہ کریں گی۔وہ اس بات پر مجبور ہوں گی کہ میری کتابوں کو پڑھیں اور ان سے فائدہ اٹھائیں بلکہ میں بغیر فخر کے کہہ سکتا ہوں کہ اس بارہ میں سب خلفاء سے زیادہ مواد میرے ذریعہ سے جمع ہوا ہے اور ہورہا ہے پس مجھے یہ لوگ خواہ کچھ کہیں۔خواہ کتنی بھی گالیاں دیں ان کے دامن میں اگر قرآن کے علوم پڑیں گے تو میرے ذریعہ ہی اور دنیا ان کو یہ کہنے پر مجبور ہوگی کہ اے نادانو ! تمہاری جھولی میں تو جو کچھ بھرا ہوا ہے۔وہ تم نے اسی سے لیا ہے پھر اس کی مخالفت تم کس منہ سے کر رہے ہو۔“ خلافت راشدہ انوار العلوم جلد نمبر ۱۵ صفحه ۲۸۷، ۲۸۸) خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا اس کے متعلق میں نے بہت سی تفصیلات جمع کی تھیں لیکن اس وقت میں صرف وہ نقشہ ہی پیش کر سکتا ہوں جو میں نے اس غرض کے لئے تیار کر وایا ہے اور وہ یہ ہے۔ا تفسیر اس سلسلہ میں حضور کی ایک کتاب تو تفسیر کبیر ہے جو خود اتنی عجیب تفسیر ہے کہ جس شخص نے بھی غور سے اس کے کسی ایک حصہ کو پڑھا ہوگا وہ یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا کہ اگر دنیا میں کوئی خدا رسیده بزرگ پیدا ہوتا اور وہ صرف یہ حصہ قرآن کریم کا تفسیری نوٹوں کے ساتھ شائع کر دیتا تو یہ اس کو دنیا کی نگاہ میں بزرگ ترین انسانوں میں سے ایک انسان بنانے کے لئے کافی تھا یعنی اس