خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 57
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۷ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب مجھے اس مقصد میں نا کام کرنے کے لئے متحد ہو جائیں۔پھر بھی میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں ناکام رہیں گی اور وہ خدا میری دعاؤں اور تدابیر کے سامنے ان کے تمام منصوبوں اور مکروں اور فریبوں کو ملیا میٹ کر دے گا اور خدا میرے ذریعہ سے یا میرے شاگردوں اور اتباع کے ذریعہ سے اس پیشگوئی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے طفیل اور صدقے اسلام کی عزت کو قائم کرے گا اور اس وقت تک دنیا کو نہیں چھوڑے گا۔جب تک اسلام پھر اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا میں قائم نہ ہو جائے اور جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر دنیا کا زندہ نبی تسلیم نہ کر لیا جائے۔۔۔۔۔میں اس سچائی کو نہایت کھلے طور پر ساری دنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں یہ آواز وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی آواز ہے یہ مشیت وہ ہے جو زمین و آسمان کے خدا کی مشیت سے ہے۔یہ سچائی نہیں ملے گی۔نہیں ملے گی۔اور نہیں ٹلے گی۔اسلام دنیا پر غالب آ کر رہے گا مسیحیت دنیا میں مغلوب ہو کر رہے گی۔اب کوئی سہارا نہیں جو عیسائیت کو میرے حملوں سے بچا سکے خدا میرے ہاتھ سے اس کو شکست دے گا اور یا تو میری زندگی میں ہی اس کو اس طرح مچل کر رکھ دے گا کہ وہ سراٹھانے کی بھی تاب نہیں رکھے گی اور یا پھر میرے بوئے ہوئے بیج سے وہ درخت پیدا ہوگا جس کے سامنے عیسائیت ایک خشک جھاڑی کی طرح مرجھا کر رہ جائے گی اور دنیا میں چاروں طرف اسلام اور احمدیت کا جھنڈا انتہائی بلندیوں پر الموعود، انوار العلوم جلد ۱۷ ۶۴۶ تا ۶۴۸) اڑتا ہوا دکھائی دے گا“ پھر آپ نے فرمایا: ” خدا تعالیٰ کی صفت علیم جس شان اور جس جاہ وجلال کے ساتھ میرے ذریعہ جلوہ گر ہوئی اس کی مثال مجھے خلفاء کے زمرہ میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔میں وہ تھا جسے کل کا بچہ کہا جاتا تھا۔میں وہ تھا جسے احمق اور نادان قرار دیا جاتا تھا مگر عہدہ خلافت کو سنبھالنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر قرآنی علوم اتنی کثرت کے ساتھ کھولے کہ اب قیامت تک امت مسلمہ اس بات پر مجبور ہے کہ میری کتابوں کو پڑھے اور ان سے فائدہ اٹھائے وہ کون سا اسلامی