خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 657
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب ہیں وہ پادری جو میرے مقابلہ پر آکر اس اعتراض کو دہرائیں جو پہلے دہرایا کرتے تھے۔آر۔نے لکھا کہ پادری کہا کرتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نشان نہیں دکھایا۔آپ نے کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بے شمار نشانات دکھائے اور تم آؤ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سے آکر نشان دیکھو اور آپ نے دکھائے بھی۔عبد اللہ آتھم کا نشان ، ڈوئی کا نشان ، قرآن کریم کی عظمت کے اظہار کا نشان۔آپ نے پادریوں کو للکارا۔آپ نے کہا تم بائیل کی قریباً ستر کتب پر فخر کر ر ہو اور میں تمہیں کہتا ہوں کہ قرآن عظیم اتنی عظمت رکھنے والا ہے سورۃ فاتحہ میں جو روحانی اسرار پائے جاتے ہیں وہ تم اپنی ساری کتب میں سے نکال کر نہیں دکھا سکتے۔میں جب ۱۹۶۷ء میں یورپ کے دورے پر گیا تو اس وقت میں نے یہ حوالہ نقل کر کے اس کا انگریزی میں ترجمہ کرایا تھا اور وہ میں نے پاس رکھا ہوا تھا۔جب میں نے عیسائی وفود کو اکٹھی ملاقات کا وقت دیا اور جب ملاقات ختم ہو گئی تو میں نے ان سے کہا میں نے پہلے اس لئے بات نہیں کی کہ تمہیں جواب دینے کا موقع نہیں ملے گا۔اب میں تمہیں یہ چیلنج دیتا ہوں۔یہ چیلنج ہے مہدی معہود کا عیسائیت کو کہ تم اپنی ساری کتب میں سے سورۃ فاتحہ کے برابر اسرار روحانی نکال کر دکھا دو تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارے پاس کچھ ہے لیکن اگر نہ دکھا سکو تو پھر ہم کہیں گے کہ تمہارے پاس کچھ بھی نہیں ہے میں نے انہیں کہا تھا تم یہ عذر پیش کر کے بچ نہیں سکتے کہ جس عظیم ہستی نے یہ چیلنج دیا تھا وہ تو اس وقت دنیا میں ہے نہیں تو کس کو جا کر کہیں کہ ہم مقابلے کے لئے تیار ہیں۔یہ تمہارا عذر اس لئے مقبول نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ میں خلافت حقہ راشدہ کا سلسلہ جاری کیا ہے اور میں ایک خلیفہ کی حیثیت سے تمہارے سامنے موجود ہوں۔تم چیلنج قبول کرو۔میں تمہارے مقابلے پر آؤں گا۔اسی طرح دوسرے چیلنج بھی عیسائیوں کو ہیں۔پھر دیگر مذاہب کو اور پھر انسانی عقل کو چیلنج دیا اور انسان کی کوتاہ عقل اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئی۔میں نے خطبہ میں بتایا تھا کہ یہ چیلنج ہیں۔سارے دانشوروں کو یہ چیلنج ہیں اور میں اس چیلنج کو جو دیا گیا ہے اس کو صحیح ثابت کرنے کے لئے یہاں کھڑا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ قرآن کریم کی کسی تعلیم کو تم اگر خلاف عقل سمجھتے ہو تو میرے سامنے پیش کرو۔ہمارے سامنے پیش کرو۔ہم ہر صاحب عقل انسان کو تسلی دلائیں گے کہ تمہارا یہ اعتراض کہ اسلام کی تعلیم خلاف عقل ہے ، غلط ہے بلکہ یہ تو عین عقل