خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 655 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 655

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸ دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب سارے کے سارے وہ ہوں گے جن کا عرب ممالک سے تعلق نہیں ہوگا۔ایک بھی ان میں سے عرب نہیں ہوگا۔سارے عجمی ہوں گے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پہنچایا۔ان کو اپنی آل میں شامل کرنے کے لئے سلمان کے متعلق وہ کہا جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔وأَخَرِيْنَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوْابِهِمْ (الجمعة :۴) کی تفسیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کی کہ وہ تمہارے بعد آئیں گے۔انہوں نے مجھے دیکھا تو نہیں ہو گا لیکن ان کا مقام بڑا بلند ہے۔اس کے علاوہ اس بات کے نتیجہ میں کہ صلحائے امت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ علم دیا گیا تھا مہدی کا اتنا بلند مقام ، اتنا بلند مقام ہے جو ان حوالوں میں مجھے نظر آیا تو میں حیران ہو گیا۔تیرہ سو سال پر پھیلی ہوئی ہماری ساری اسلامی تاریخ میں لاکھوں صلحاء پیدا ہو ئے ہزاروں کتب لکھیں۔کچھ ضائع ہو گئیں فسادات کے زمانے میں۔مختلف اداروں میں مختلف فسادات رونما ہوئے ہیں۔مخالفین نے اسلام کی لائبریریاں اور کتب خانے جلا کر راکھ کر دئے اور ہمیں بڑا دکھ ہوتا ہے یہ سوچ کر کہ پتہ نہیں کیا کیا علم کے خزانے ان کے اندر بھرے ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس نقصان سے امت مسلمہ کو بچالیا کیونکہ آج کی ہر ضرورت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پورا کر دیا ہے۔جہاں تک علوم روحانیہ اور اسرار دینیہ کا سوال ہے ہمیں نقصان نہیں پہنچا ( لیکن ہمارے دل ان کتب کو پڑھ کر یہ محسوس کرتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے اس طرح بھی پیار کرتا ہے جتنا ان سے کیا تو ان کے لئے ہمارے دل سے ہماری زبانوں سے دعائیں نکلتیں ) اور چونکہ بعض ایسے اعتراضات بھی ہماری تاریخ میں ہیں جو ایک وقت میں ہوئے اور بعد میں دوبارہ نہیں ہوئے تو بہت سے ایسے اعتراضات بھی اسلام پر ہوئے ہوں گے کہ جن کا جواب صلحائے امت نے ان کتب میں دیا ہوگا جو جلا دی گئیں اور ضائع ہو گئیں۔ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں۔اگر وہ کتب ضائع نہ ہوتیں تو ان کی علمی تحقیق کا علم بھی ہمیں حاصل ہوتا۔ہم اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں اور جلووں سے لطف اندوز ہوتے بہر حال میں نے اس تحقیق میں یہ دیکھا کہ صلحائے امت کے دلوں میں مہدی معہود کا اس قدر بلند مقام ہے اور اتنا بڑا رتبہ ہے کہ میں حیران ہو گیا۔چنانچہ ہمارے ایک بزرگ نے یہ لکھا ہے کہ مہدی پہلے تمام انبیاء سے بلند تر مقام رکھتے