خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 635
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۳۵ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطار میں مذاق کرتے ہوئے ایک دوسرے کو سوئی چبھو دیتے ہیں۔روٹی کا ایک ہلکا سا ذرہ لے کر فاختہ اُڑانا اسے کہا کرتے تھے۔کبھی ہم بھی بچپن میں سکول کے زمانہ میں کیا کرتے تھے۔فاختہ اُڑا دیتے ہیں۔اس سے نقصان تو کچھ نہیں ہوتا یہ تو ایک کھیل ہے۔تو وہ ہم سے کھیلیں کھیل رہے ہیں اور ہم سنجیدگی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔وہ اپنا کام کرتے چلے جائیں خدا ہمیں توفیق دے گا ہم اپنا کام کرتے چلے جائیں گے۔کامیابی تو بہر حال اسلام کے لئے مقدر ہے اور خدا تعالیٰ کی توحید سے متعلق ہی یہ فیصلہ آسمانوں پر ہو چکا ہے کہ اس نے اب دنیا میں قائم ہونا ہے۔بہر حال اُس تیز رفتاری کے ساتھ قرآن کریم باہر نہیں جاسکا اور دوسری روک اس میں یہ پیش آئی کہ کاغذ کا ملنا بند ہو گیا اور جو مل رہا ہے وہ خراب مل رہا ہے۔اس لئے میں نے جب دیکھا کہ اس قرآن کریم کا فائدہ افریقہ کے ممالک میں بڑا ہے اور مجھے خیال آیا کہ بعض اور مصلحتیں بھی تھیں افریقہ اور یورپ میں بھی انگریزی جرمن اور ڈچ زبانوں وغیرہ کے اس طرح کے جمائل طرز کے قرآن کریم کثرت کے ساتھ لاکھوں کی تعداد میں بھجوائے جائیں پھر مشورے کئے ، جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ یہ موجودہ پاکستانی کاغذ جو ہمیں دستیاب ہے یہ ان کے معیار کا نہیں ہے۔پھر انگلستان کی لجنہ نے مجھے چار ہزار پاؤنڈ پیش کئے تھے۔میں نے انہیں کہا کہ تمہیں قیامت تک ثواب ملتا رہے گا۔میں ان چار ہزار پاؤنڈ کو قرآن کریم کی اشاعت میں لگا دیتا ہوں تم چار ہزار پاؤنڈ نقدی کی صورت میں دینے کی بجائے مجھے چار ہزار پاؤنڈ کا کاغذ بھجوا دو۔وہ کاغذ یہاں پہنچ چکا ہے اور بہت ہی اچھا کاغذ ہے اور وہ کاغذ جسے میں تو قرآن کا کاغذ کہتا ہوں اور عیسائی دنیا اُسے بائیل پیپر کہتی ہے لیکن ہوگا کبھی وہ بائیل کا کا غذاب تو قرآن کا زمانہ آ گیا۔اب تو وہ قرآن کریم کا ہی کا غذ کہلائے گا۔قرآن کریم کی تمیں ہزار جلد میں اس کا غذ سے جو لجنہ کی طرف سے تحفہ آیا ہے وہ تیار ہوں گی اور اُسے ہم یورپ اور امریکہ میں بجھوائیں گے۔یورپ میں بھی انگریزی جاننے والے ہیں۔اس کے بعد دوسرے تراجم کی باری بھی آجائے گی۔بہر حال یہ کام ہو رہا ہے اس طرح تو نہیں اس رفتار سے تو نہیں۔اس مقدار میں بھی ہو وسعت میں بھی یعنی جو ہماری خواہش ہے لیکن کام شروع ہو گیا اور اسی سلسلہ میں میں نے کہا تھا دُنیا میں ہوٹلوں کے ہر کمرہ میں قرآن کریم مترجم رکھ دو۔اب ہر وہ