خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 634
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۳۴ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطاب ناظرہ قرآن کریم پڑھنے والوں کی تعداد ایک ہزار چار سو چالیس اور باترجمہ پڑھنے والوں کی تعداد پانچ سو بتیس ہے۔خدمت خلق کے بھی اس ادارے نے بڑے کام کئے ہیں۔اس کا کچھ ذکر تو پہلے آ گیا ہے۔ایک بڑی خوش کن خبر ہے ایک بڑا عجیب واقعہ رونما ہو رہا ہے کہ ہمارے پاکستان کے بعض علاقوں میں اچھوت ہندو ر ہتے ہیں اور کسی کی توجہ اُن کی طرف نہیں۔چند سال سے جماعت احمدیہ نے ان کی طرف توجہ کی اور ان میں سے سینکڑوں حلقہ بگوش اسلام ہو چکے ہیں اور اگر ہم ان کی طرف صحیح توجہ دیتے رہے اور ہم اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے گا تو میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ اگلے آٹھ دس سال میں یہ سارے ہندو نہیں تو ان کی اکثریت اسلام اور احمدیت کو قبول کر چکی ہوگی۔یہاں مسجدیں بن رہی ہیں اور دوسرے بھی اچھے کام ہورہے ہیں۔اشاعت قرآن عظیم کا جو ایک نیا ادارہ میں نے قائم کیا تھا وہ کثرت سے قرآن کریم انگریزی ترجمہ والا باہر بھجوا چکا ہے اور یہاں بھی اُردو تر جمعہ والا قرآن مجید شائع کیا اور بچوں کے لئے جمائل جو بے حد مقبول ہوئی ہے اور اس میں دور و کیں پیدا ہو گئیں۔ایک تو عارضی روک ہے۔آپ گھبرایا نہ کریں کئی لوگ گھبرا جاتے ہیں۔اگر ہمیں ہمارے یہ بھائی چنگیاں نہ کاٹیں اگر ہمیں یہ سوئیاں نہ چھوئیں تو ہم چین کی نیند کیسے سوئیں۔ہمیں تو اس کی عادت پڑ چکی ہے اور خدا تعالیٰ نے اُن کو پوری طرح ہوشیار اور بیدار رکھا ہوا ہے۔کوئی نہ کوئی کام کرتے رہتے ہیں لیکن کبھی اُنہوں نے یہ نہیں سوچا کہ تم اسی سال سے یہ کام کرتے آرہے ہو اور اسی سال سے ہم زمین کے ایک ذرّہ کی طرح ظاہر ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت اور برکت کی ہوا ایسی چلی کہ ساری دنیا میں ہم پھیل گئے۔نہ تمہاری چنگیوں نے ہماری راہ کو روکا نہ تمہارے سوئیاں چھونے نے ہمیں کمزور کیا۔شروع میں تو انہیں پتہ ہی نہیں لگا کہ وہ کیا کر رہے ہیں انہوں نے ہمیں اجازت دے دی۔باہر بھجوانے کے لئے اجازت لینی پڑتی ہے۔ہم تو قانون کے پابند لوگ ہیں۔وہ ہمیں اجازت دے دیتے تھے ہم بڑے خوش تھے اور قرآن کریم باہر جا رہا تھا لیکن جب اُنہوں نے دیکھا کہ ہزار ، دو ہزار ، دس ہزار ہیں ہزار یہ تو کہیں کے کہیں پہنچتے چلے جارہے ہیں تو اب کچھ رستہ میں روک ڈالتے ہیں لیکن میں نے بتایا کہ اس سے زیادہ اس روک کی اہمیت نہیں جتنا بچے آپس