خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 611
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۱۱ ۲۶ دسمبر ۱۹۷۳ء۔افتتاحی خطاب آسمانوں پر جو فیصلہ ہو چکا ہے زمین کی کوئی طاقت اسے ٹال نہیں سکتی افتتاحی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۶ / دیسمبر ۱۹۷۳ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں:۔رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيَّا يُنَادِى لِلْإِيْمَانِ أَنْ أَمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَأَمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ رَبَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيمَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ( آل عمران : ۱۹۴ ، ۱۹۵) رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَيْحِينَ (الاعراف : ٩٠) پھر حضور انور نے فرمایا:۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پروانو ا تم مغرب کے اندھیروں میں مستانہ وار گھس کر خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرتے اور اس کی تو حید کو قائم کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہو اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا تم پر سلام ہو۔اے اسلام کے فدائیو! تم خوابیدہ مشرق کی فضاؤں میں گھستے ہو اور اسلام کی اشاعت کے لئے ہزاروں میل دور جا کر اور جزائر جزائر پھر کر لوگوں تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے روحانی فرزند مرزا غلام احمد علیہ السلام کا پیغام پہنچاتے ہو تم پر اللہ اور اس کے رسول کا سلام ہو۔اے وہ گروہ جو شمال کی برفانی ہواؤں کی پروا نہ کرتے ہوئے شمال کی بلندیوں کی طرف پرواز کرتے ہوئے ان لوگوں تک خدائے اعلیٰ کا پیغام پہنچاتے ہو جو مادی بلندیوں کو تو پہچانتے ہیں مگر روحانی رفعتوں سے بے بہرہ اور غافل ہیں تم پر اللہ اور اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام ہو۔اور اے وہ لوگو جو زمین کے جنوبی کناروں تک پھیل کر قرآن کریم کی عظمت کو لوگوں کے دلوں میں بٹھانے کی کوشش کرتے ہو تم قرآن کریم کی عظیم بشارتوں کے وارث بنو۔اور اسلام