خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 575
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۷۵ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب یہ بھی بتائیں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے یہ پہلو تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔کیونکہ قرآن کریم کے متعلق خدا تعالیٰ نے جہاں اس کے کتاب مبین ہونے کا دعوی کیا ہے۔وہاں کتاب مکنون ( ایک چھپی ہوئی کتاب ) کا بھی دعوی کیا ہے اور اس حصہ قرآن کریم کے متعلق یہ اعلان فرمایا کہ لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة :۸۰) کہ خدا تعالیٰ کے پاک اور مطہر بندوں کے سوا ( جن کا معلم خود خدا بنے گا ) کتاب مکنون یعنی قرآن کریم کے پوشیدہ حصوں کو دنیا پر کوئی ظاہر نہیں کر سکے گا۔پس یہی لوگ جن کا خود خدا معلم بنے گا یہ اختیار بھی رکھیں گے کہ دنیا کو بتائیں کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کون سا ورق ایسا ہے جو اس زمانے میں ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔مثلاً نائیجیریا کے اُس بزرگ ولی اور مجدد کے متعلق جس کے بارہ میں میں نے ابھی بتایا ہے کہ اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کا مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس کے متعلق اسوہ یہ ہے کہ ستر پوشی کے لئے جو لباس میسر آئے وہی پہن لیا جائے۔چنانچہ انہوں نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوپی بھی پہنی۔آپ نے رومال بھی باندھا۔آپ نے ایک بڑا سا کڑا (عقال ) بھی سر پر لپیٹا۔آپ نے چادر بھی استعمال کی قمیض بھی پہنی۔آپ نے پاجامہ بھی پہنا۔جو کسی وقت ڈھیلا اور کسی وقت تنگ بھی ہوتا تھا۔آپ نے دھوتی کے طور پر چادر بھی باندھی وغیرہ وغیرہ پھر انہوں نے لکھا کہ اس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ کوئی ایک لباس اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں شامل نہیں بلکہ جو کپڑا کسی کو میسر آئے وہ اُسے پہن لے۔تاہم اس میں اصل چیز ایک تو یہ ہے کہ ستر ڈھکے آدمی ننگا نہ رہے دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو جائز زینت کا جائز سامان پیدا کیا ہے۔( مرد کے لئے اور قسم کا ہے اور عورت کے لئے اور قسم کا ) اس زینت کو وہ اختیار کرے۔مثلاً اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کے ذکر میں مشغول رہے۔قرآن کریم نے اگر اسوۂ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیادی باتیں اور اصول بتائے ہیں تو ہمیں قرآن کریم پر غور کرنا چاہئے کہ وہ اصول اور بنیادی باتیں کیا ہیں جس وقت یہ مضمون میر۔ذہن میں آیا اور میں نے بڑا غور کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم -