خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 574 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 574

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۷۴ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب کے لئے اسوہ ہیں۔آیا اس کا فیصلہ کرنا انسان کے اختیار میں ہوتا ہے۔اگر یوں ہوتا تو پھر ایک گروہ کھڑا ہوتا اور وہ کہتا کہ ٹخنے سے اوپر اپنی شلوار یا پاجامے یا دھوتی کو رکھنا اسوۂ نبوی ہے۔ایک دوسرا پاک اور مطہر گروہ کھڑا ہوتا اور وہ کہتا کہ آنحضرت کی حیات مبارکہ کا میں نے مطالعہ کیا ہے۔آپ مختلف اوقات میں مختلف قسم کے لباس پہنتے رہے ہیں۔اس لئے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ لباس کے معاملے میں یہ ہے کہ جو لباس میتر آئے وہ پہن لیا جائے۔گویا ایک رائے ظاہری عالم کی اور ایک رائے نائیجیریا میں اپنے وقت کے مجد دکی ہے۔چنانچہ ان دو آراء میں ہمیں زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ظاہر ہے اگر یہ بات انسان پر چھوڑ دی جاتی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سے بعض چیزوں کو لے کر کہہ دیا جاتا کہ یہ ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے تو پھر ہمارے لئے بڑی مشکل پڑ جاتی۔ہر شخص اپنی رائے منوانا چاہتا اور اس طرح دنیا میں ایک فساد عظیم پیدا ہو جاتا۔اس لئے اس مفروضہ کو تو ہمیں بہر حال رڈ کرنا پڑے گا کہ اسوۂ حسنہ کی تعیین انسان کے اختیار میں دی گئی ہے۔یہ بات انسان کے اختیار میں نہیں دی گئی کیونکہ اللہ تعالی اسلام کو انسان کے لئے رحمت بنا کر بھیجنے والا ہے۔اس کو فتنہ وفساد کا موجب بنانے والا نہیں۔دوسری رائے یہ قائم ہوسکتی ہے کہ اس بات کا یقین کرنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی کون سی باتیں بنی نوع انسان کے لئے اُسوہ ہیں۔یہ ایک تو قرآن عظیم کا کام ہے۔قرآن عظیم خود بتائے گا کہ وہ عظیم ہستی جس کے متعلق قریب سے قریب تر پہنچنے اور اچھی طرح سے پہچاننے والوں نے یہ گواہی دی تھی کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ ( مسند احمد بن حنبل جلد ۶ صفحه ۹۱) کہ قرآن کریم کی ہدایت کو پڑھنا ہو تو آپ کی زندگی میں پڑھ لو۔قرآنِ عظیم نے بنیادی طور پر ہماری زندگی کے ہر شعبہ میں ہماری رہنمائی کی ہے اور بتایا ہے کہ آنحضرت کی زندگی اور آپ کی ہستی کس معنی میں بنی نوع انسان کے لئے قیامت تک اسوہ حسنہ ہے۔پس جہاں تک تفصیل کا سوال ہے چونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن کریم کی ہدایت کا نمونہ ہے اور چونکہ قرآن کریم کی ہدایت اپنے اپنے وقت کی ضروریات کے مطابق کھلتی چلی جائے گی۔اس لئے جو تفسیر کرنے والے ہیں وہ خدا تعالیٰ سے علم حاصل کر کے لوگوں کو