خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 522 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 522

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۲۲ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب آپ استعمال کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ برکت پر برکت ڈالتا چلا جاتا ہے۔ہاں ضمناً میں گیمبیا کا ذکر کر رہا تھا۔گیمبیا وہ ملک ہے جس میں وہاں کے سربراہ مملکت گورنر جنرل نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑے سے برکت حاصل کی۔ریاستوں کے رؤساء نے تو پہلے بھی بڑی برکت لی ہے۔ہماری تاریخ نے اسے محفوظ کیا ہے۔لیکن ایک آزاد ملک کے گورنر جنرل نے پہلی بار گیمبیا میں یہ شرف حاصل کیا۔اس کی تفصیل ہی چھوڑ دیتا ہوں۔ایک اور بڑی خوشخبری ہے۔وہ میں آپ کو سنا دیتا ہوں تا کہ آپ بھی میری طرح بہت حمد کریں۔یہ تو میں ایک سابق گورنر جنرل کی بات کر رہا تھا۔ایک موجودہ سربراہ مملکت جو اپنے ملک میں اتنے مقبول ہیں کہ ان کو لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہمارا باپ ہے اور سارا ملک ان کے بچوں کی طرح ہے۔ان کے بیٹے نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت حاصل کی ہے۔پس آسمانوں پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے اور خدائی تقدیر حرکت میں ہے کہ باہر سے بادشاہ بھی اور وزراء بھی۔متوسط طبقہ کے لوگ بھی اور امراء بھی اور مظلوم اور محروم اور سائل اور غریب اور مسکین اور یتیم بھی جماعت احمدیہ میں داخل ہو کر اخوت کی برادری اور محبت کی برادری میں ایک ہوتے چلے جائیں گے۔یہاں تک کہ وہ وعدہ پورا ہو جائے گا جو بنی نوع انسان کو ملت واحدہ بنا دینے کا وعدہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا تھا اور جس کے متعلق آپ نے فرمایا ہے کہ میرے روحانی فرزند مہدی معہود کے زمانے میں اور اس کے ذریعہ سے پورا ہوگا۔باہر کے بادشاہ کی حیثیت سے داخل ہوں گے مگر اسلام اور احمدیت میں وہ اپنے ایک غریب بھائی کو بھائی کی حیثیت سے گلے لگالیں گے۔نہ کوئی بادشاہ رہے گا اور نہ کوئی فقیر۔سارے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آپ کے غلام بن کر اللہ کے نیک بندوں کی حیثیت سے اس دنیا میں ایک نہایت ہی حسین معاشرہ قائم کر کے ایک ایسی زندگی گزارنے والے ہوں گے جو ان کے پیدا کرنے والے کی نگاہ میں معزز زندگی ہوگی اس کی رضا کی جنتیں انہیں حاصل ہوں گی۔فتنہ وفساد مٹ جائے گا۔بھائی بھائی ہو کر بھائی پر ظلم نہیں کرے گا بلکہ بھائی بھائی کی خدمت کرے گا اور اس کے لئے قربانی کر رہا ہوگا۔اب میں اس بشاشتوں سے بھر پور جلسے اور بشارتوں کے پورا ہونے سے جو ہمارے دلوں