خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 504 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 504

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۰۴ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب زندگی میں خدا نے مجھے توفیق نہیں دی کرایہ بھی نہیں ملا اور یہی حسرت میرے دل میں رہی اور پھر آپ کا وصال ہو گیا۔اب میں نے سُنا تھا کہ آپ آ رہے ہیں۔میں نے سوچا میرے پاس کرایہ نہیں تھا۔میں مہدی معہود کے خلیفہ کی زیارت نہیں کر سکا۔اب خلیفہ خود آ رہا ہے تو یہاں زیارت ہو جائے گی آپ نے یہ سفر ملتوی کر دیا ہے میں بوڑھا آدمی ہوں۔میں ہر وقت یہ سوچ کر غم زدہ رہتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ پہلے اور قسم کی حسرت رہی۔اب اگر میں آپ کے آنے سے پہلے مر جاؤں تو یہ حسرت دل میں لے جاؤں گا کہ میں نے مہدی معہود کے خلیفہ سے ملاقات نہیں کی۔خیر میں نے اُسے تسلی کا خط لکھا۔دعا ئیں دیں کہ اللہ تعالیٰ اُسے زندگی بخشے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اسے زندگی دی اور جب ہم وہاں گئے تو اُس نے بڑے پیار سے اور بڑے شوق سے اور بڑے اخلاص سے مجھ سے ملاقات کی۔اس سال کے شروع میں کہنا چاہئے ۱/۴ پریل کو یہاں سے روانہ ہوئے اور دس یا گیارہ اپریل کو وہاں پہنچے۔پہلے نائیجیریا میں گئے۔پھر اس کے بعد غانا میں گئے۔پھر آئیوری کوسٹ اور پھر یہاں سے لائبیریا گئے۔اس کے بعد سیرالیون جہاں ہماری بہت بڑی جماعتیں ہیں اس کے اُوپر سے پرواز کر کے پہلے گیمبیا میں پہنچے اور پھر سیرالیون میں آئے کیونکہ وہیں سے ہمیں واپسی کا جہاز ملتا تھا ورنہ دو دفعہ وہاں آنا پڑتا۔بہر حال ان ملکوں کے سربراہوں سے بھی ملے۔ان کے جو پڑھے لکھے لوگ تھے ان سے بھی ملے اور جو عیسائیت پھیلانے کے لئے باہر سے پادری گئے ہوئے تھے اُن سے بھی باتیں ہوئیں۔جو عوام ہیں اور جن کے متعلق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے ان میں تلاش کرو اُن عوام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کو بھی تلاش کیا۔اُن کو گلے لگایا ان کے بچوں کو بھی تلاش کیا۔ایک ایک وقت میں پانچ پانچ چھ چھ ہزار دوستوں سے مصافے کئے ان کے جذبات کو دیکھا۔اپنے جذبات کا اظہار کیا۔وہ پانچ سات ہزار میل دور ہیں۔اتنی دور کے فاصلے پر سے وہ نہ کبھی یہاں آئے لیکن اس کے باوجود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مہدی علیہ السلام کے ساتھ ان کو اتنا عشق ہے کہ آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے اور وہ اتنے دلیر ہیں کہ ( یہ ٹھیک ہے کہ ان کے ماحول میں ان کی یہ دلیری انہیں زیادہ پریشان نہیں کرتی ) اپنی کاروں پر لاؤڈ سپیکر لگا کر سارے شہر کی گلیوں میں پھر کر یہ ندا بلند کیا کرتے تھے کہ