خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 487 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 487

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۸۷ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب وہ تو امام ہے۔اُس نے تو بہر حال آگے کھڑا ہونا ہے اور جو اس کے پیچھے پہلی صف ہے اس میں مٹی سے اٹا ہوا ایک مزدور آدمی بھی کھڑا ہوتا اور امیر بھی اور پیچھے جو آئے گا وہ بعض دفعہ مزدور کے پاؤں میں اپنا سر رکھ رہا ہو گا۔غرض عمل سے بتا دیا کہ بشر ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔اب مثلاً یہ عیسائی ہیں یہ جب افریقہ میں گئے تو انہوں نے مساوات قائم نہیں کی۔یہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں اور اس وجہ سے اب وہ Retreat یعنی وہاں سے ان کی واپسی ہے اور اس طرح ہمارے لئے آگے بڑھو کا پروگرام ممکن ہو گیا ہے۔ہم آگے بڑھ رہے ہیں اور وہ پیچھے جا رہے ہیں۔ایک لطیفہ بتا دوں بعض مبلغین نے مجھ سے ذکر کیا کہ پہلے ان کا شہروں میں زور تھا پھر ان کا قصبوں میں زور ہوا۔جہاں ہمارے مبلغ جاتے تھے وہ پیچھے ہٹتے جاتے تھے اور اب وہ Bush ( بش ) میں چلے گئے۔وہاں Bush کا مطلب ہے وہ علاقہ جہاں سڑکیں کوئی نہیں جنگل ہیں وہ جہاں ان ملکوں کی آبادی کے وحشی حصے آباد ہیں۔ابھی تک وہ علاقہ اوپن نہیں ہوا یعنی کھلا نہیں ہے۔نہ سڑکیں بنی ہیں نہ سکول اور اس لیے ان کی زندگی بڑی غیر مہذب ہے چنانچہ پیچھے ہٹتے ہٹتے اب بش Bush میں چلے گئے ہیں۔بے اختیار میرے منہ سے سے نکلا follow them to the bush ان کے پیچھے جاؤ bush میں۔تم یہاں کیوں کھڑے ہو؟ دراصل بات یہ ہے کہ عیسائیوں نے مساوات کو قائم نہیں کیا۔میرے لیے تو یہ حیرت کا مقام تھا اور مجھے بڑا دکھ ہوا کہ جب میں نے ہزاروں لوگوں کے مجمع میں پہلی دفعہ ایک بچے کو اٹھا کر پیار کیا تو اس سے ایک عجیب سماں پیدا ہوا۔ان کے چہروں سے اس قدر خوشی پھوٹ پھوٹ کر نکل رہی تھی کہ اس خوشی سے ہوا میں ایک ایسا ارتعاش پیدا ہوا جسے میرے کانوں نے بھی سنا۔اس سے مجھے خوشی بھی ہوئی لیکن مجھے بڑا رنج اور صدمہ بھی ہوا کہ یہ بیچارے آج تک پیار سے محروم ہیں دو سو سال سے عیسائیت انہیں یہ کہہ رہی تھی کہ وہ مساوات کا پیغام لے کر آئی ہے مگر وہ اس پر عمل نہیں کر رہی تھی۔چنانچہ جب میں نے ایک افریقن بچے سے پیار کیا تو یہ انہوں نے ان کی زندگی میں پہلی بار دیکھا۔میں نے بعض دوستوں سے پوچھا کہ میں نے آج یہ کیا نظارہ دیکھا ہے؟ بہر حال اس سے مجھے خوشی بھی ہوتی کہ ہم اسلام کا پیغام لے کر گئے ہیں لیکن رنج بھی ہوا کہ وہ آج تک پیار -