خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 472
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۷۲ ۲۷ دسمبر ۱۹۷۰ء۔دوسرے روز کا خطاب ہمیں ملیں گے۔جو جلدی ریٹائر ہونے والے ہیں ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں اور جو فوری ضرورت ہے اس کی تعداد زیادہ ہے۔بہت سے تو ایسے مخلص ہیں جو کہتے ہیں کہ جب آپ کہیں ہم استعفی دیں گے اور کام کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے بڑے اچھے دل دیئے ہیں لیکن سوائے اشد ضرورت کے میں نہیں چاہتا کہ ان کو اکھیڑوں کیونکہ وہ بھی جماعت کے لئے خدمت کر رہے ہیں۔ایسے لوگ دس فیصد حصہ وصیت کا دے رہے ہوتے ہیں اور دوسرے چندے بھی دیتے ہیں۔اپنے شہر، گاؤں قصبے اور ضلع کو انہوں نے سنبھالا ہوا ہوتا ہے۔اس کو مدنظر رکھنا چاہیے۔بہر حال آدمیوں کی بہت ضرورت ہے۔تعليم القرآن کچھ جماعتیں رپورٹیں بھجوا رہی ہیں، کچھ ست ہیں۔ہفتہ قرآن مجید بھی منایا گیا جس سے کافی فائدہ ہوا۔تعلیم القرآن کلاس منعقد کی گئی جس میں صرف پانسو تیر ہ طلبہ اور طالبات شریک ہوئیں۔میں نے امرائے اضلاع کو کہا تھا کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے۔شاید میں نے امرائے اضلاع کی میٹنگ میں کہا ہو۔اب میں جماعت کے سامنے ان کو ذمہ دار قرار دیتا ہوں۔اس کلاس میں با قاعدہ سکیم کے ماتحت نمائندے آنے چاہئیں مثلاً چاہے آپ شروع میں دس قریب قریب کی جماعتوں کا ایک نمائندہ بھیجیں اور وہ وہاں جا کر کام کرے۔اول تو یہ ہے کہ ہر گاؤں کا آئے یہ ٹھیک ہے کہ اس کے نتیجہ میں ایک ہزار مرد آئے گا۔اس دفعہ کل تعداد پانچ سو سے اوپر تھی۔مرد سوا دو سو کے قریب تھے اور لڑکیاں زیادہ تھیں وہ آپ سے آگے بڑھ رہی ہیں اور یہ شرم کی بات ہے کہ مردوں سے لڑکیاں آگے بڑھ جائیں۔بہر حال آگے بڑھ رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے۔اگر ہر جماعت سے ایک نمائندہ بھی آئے تو ایک ہزار آنا چاہیے لیکن لاہور سے ایک کا کیا مطلب؟ راولپنڈی، پشاور سے ایک کا کیا مطلب؟ وہاں کے تو ہر محلے سے ایک دو آ بھی سکتے ہیں اور آنے بھی چاہئیں۔اس طرح یہ پندرہ سو کی تعداد بن جائے ہیں سو کی بن جائے۔سوا دوسو تو کچھ بھی نہیں۔اے امرائے اضلاع ! اگر آپ نے ہی کیا ہے تو میں آپ کے ذریعہ آپ کو سزا دوں گا اور آپ کی ساری جماعت کو بھی۔سزا یہ دوں گا کہ جب وہ کلاس ہو گی تو میں کہیں ادھر اُدھر ہو جایا