خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 431
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۳۱ ۲۶ دسمبر ۱۹۷۰ء۔افتتاحی خطاب قلوب کو خدا اور اس کے رسول کی محبت کی آگ سے روشن رکھو افتتاحی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۷۰ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔عزیز از جان بھائیوں، بہنو اور بچو! ہمارے محبوب و مقصود وربّ کریم کے آپ پر ہزاروں سلام ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آنے کی غرض بھی اور اس جلسہ کی غرض بھی یہ بتائی ہے کہ ایسا سامان پیدا ہو کہ دلوں سے دُنیا کی محبت ٹھنڈی ہو جائے اور خدائے واحد و یگانہ سے ذاتی محبت اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک والہانہ عشق دلوں میں پیدا ہو جائے۔آج دنیا اپنے پیدا کرنے والے رب کو پہچانتی نہیں۔دُنیا ، دُنیا میں اس قدر محو ہو چکی ہے کہ ہزار قسم کے بُت دِلوں میں بٹھا دیئے گئے ہیں۔علم پر غرور ہے۔طاقت پر بھروسہ ہے۔مادی سامانوں پر تکیہ کیا جاتا ہے لیکن وہ جو ان تمام اشیاء کا پیدا کرنے والا ہے اُس کو بھلا دیا گیا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی یہ غرض تھی کہ دُنیا کی تمام اقوام اپنے پید کرنے والے رب کے قدموں میں جمع ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرزند جلیل کی حیثیت سے، آپ کے ایک محبوب ترین بیٹے کی حیثیت سے دُنیا میں اسی غرض سے آئے۔المی بشارات کے مطابق یہ ہے ہمارا عقیدہ۔پس جن لوگوں کے دلوں میں دُنیا کی محبت سرد ہو جاتی ہے۔جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت ذاتیہ کی آگ جوش مارنے لگتی ہے اور جس کے نتیجہ میں بظا ہر سب کچھ جل جاتا ہے یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ سب کچھ واپس دے دیتا ہے۔لیکن وہ لوگ جن کے دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے خالی اور جن کی فراستیں اللہ تعالیٰ کی قدرتوں سے بے بہرہ اور غافل ہوتی ہیں وہ سمجھتے