خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 419
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۱۹ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب قابل ہو جاؤ گے کہ اس کامل اور مکمل شریعت لانے والے کی امت بن سکو اور اس کی اتباع کر سکو اور اللہ تعالیٰ کے کامل فضلوں کو تم حاصل کر سکو۔حضرت مسیح علیہ السلام نے انہیں یہ کہا کہ شریعت کی بہت سی باتیں ابھی قابل بیان ہیں مگر چونکہ اس وقت بنی اسرائیل ان کی برداشت نہیں کر سکتے بلکہ برداشت کے لئے تیاری کروائی جا رہی ہے۔اس لئے انہیں اس وقت کا انتظار کرنا چاہئے کہ جب بنی نوع انسان کامل تعلیم کے حامل بننے کی اہلیت پیدا کر لے اور اللہ کا ایک عظیم نبی ان صداقتوں کو بنی نوع انسان کے سامنے بیان کرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ضمن میں ( یہ تیسری شق ہے ) پہلے انبیاء پر سے ہی تہمتیں دور نہیں کیں بلکہ پہلی کتابوں پر سے بھی تہمتیں دور کیں۔مثلاً وید پر یہ انتہام لگایا گیا اور یہ اتہام ماننے والوں نے لگایا کہ وید نے نیوگ کی اجازت دی یہ بڑا سخت اتہام ہے۔بڑا گندا اتہام ہے لیکن قرآن کریم نے یہ کہا کہ وہ رشی جن پر یہ ویدا اپنی اصل شکل ( جو بھی ان کی شکل تھی ) میں اترے وہ خدا تعالیٰ کے پیارے نبی تھے اور جو صحیح اور سچی باتیں ان کو ملی تھیں اور جو کامل اور ابدی صداقتیں انہوں نے پائی تھیں وہ ہم نے قرآن کریم میں محفوظ کر لیں ہیں۔وید کا وہ حصہ جو قرآن کریم کی تعلیم سے مشابہت رکھتا ہے وہ خدا کی طرف سے نازل ہوا تھا اور وید کا وہ حصہ جو قرآن کریم سے مشابہت نہیں رکھتا وہ خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوا اس لئے اگر دنیا نیوگ کی تعلیم کو دید کی طرف منسوب کرے گی تو دید کے لانے والے انبیاء پر اور وید کے اوپر کوئی الزام نہیں آئے گا کیونکہ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ وید ہے ہی نہیں۔یہ انسان نے بیچ میں ملا دیا ہے۔غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پرانی کتب کو بھی مختلف تہمتوں سے بری قرار دیا اور ایک بنیادی اصول یہ قائم کر دیا کہ تمام انبیا ء خدا کی طرف سے تھے۔تمام انبیاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے ضرورت زمانہ کے مطابق ہدایتیں لے کر آئے تھے اور ان تمام ہدایتوں کو قرآن کریم نے اپنے اندر جمع کر لیا۔اس لئے ہر وہ گند اور ناپاکی اور لعنت کی بات جو ان کتابوں کی طرف منسوب کی جاتی ہے یا اسے ان کا حصہ بنادیا گیا ہے اور وہ قرآنی تعلیم کی مخالف ہے اس کے متعلق ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ اس کتاب کا حصہ نہیں ہے بلکہ اسے انسانی دجل نے بیچ میں شامل کیا ہے۔کتاب تو ایک حسین خدائی کتاب تھی تم نے اس کے اندر گند ملا دیا اس میں اس کتاب یعنی وید کا کہ