خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 416 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 416

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۱۶ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب جو شخص دوسروں کو فسق و فجور سے چھڑانے والا اور اللہ تعالیٰ کا انذار کرنے والا ہے وہ خودان گناہوں میں کیسے پھنس سکتا ہے۔غرض قرآن کریم نے دنیا کے ہر نبی کی برکت کی ہے اور یہ بڑا ہی عظیم احسان ہے اس محسن اعظم کا جس کی ہم امت ہیں اور جس کے احسان اور فضل ہر وقت ہم پر ہورہے ہیں کہ بنی اسرائیل کے نبی ہوں یا ہندوؤں کے نبی ہوں قرآن کریم نے کہا وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيرٌ (فاطر: ۲۵) اور سب کی برات کردی۔ایک اور احسان عظیم جو نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بنی نوع انسان پر کیا وہ یہ ہے کہ آپ ایک ایسی ہدایت اور ایک ایسی شریعت اور ایک ایسی کتاب اور ایک ایسا ذکر لے کر آئے جو ہر لحاظ سے کامل اور مکمل ہے اور ہر قسم کے نقص سے پاک ہے۔اصل میں تو غور کر کے دیکھا جائے تو اللہ جس کو اسلام پیش کرتا ہے وہ تمام صفات حسنہ کا جامع اور تمام نقائص اور تمام برائیوں سے پاک اور منزہ ہے۔اس نے اپنے اور مخلوق کے درمیان برزخ بنایا اور اسے اپنے نام اللہ کا مظہر اتم اور مظہر اکمل بنایا اور وہ بھی ایسا ہی ہونا چاہئے کہ وہ تمام صفات باری سے ظلی طور متصف اور تمام نقائص اور کمزوریوں اور برائیوں سے اللہ کے فضل سے محفوظ ہو ورنہ وہ مظہر اتم ہو نہیں سکتا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کتاب لے کر آئے اس کے اندر بھی یہ خوبیاں ہیں کہ اس کے اندر کوئی عیب نہیں۔کوئی ایسا اعتراض قرآن کریم پر نہیں کیا جا سکتا جسے ہم معقولی طور پر رد نہ کر سکیں۔اگر کسی کو ہمت ہے وہ آج کر کے دیکھ لے اور پھر تمام ہدایتیں قرآن کریم کے اندر پائی جاتی ہیں آج صبح ہی کا ذکر ہے کہ ایک صحافی دوست یہاں آئے ہوئے تھے انہوں نے مجھ سے سوشلزم اور سرمایہ داری کے متعلق بات کی۔میں نے کہا بات یہ ہے کہ نہ میں سوشلزم کے حق میں ہوں اور سرمایہ داری کے حق میں ہوں میں تو اسلام کے حق میں ہوں۔جب مجھے یہ یقین ہے کہ اسلام سے باہر اور قرآن سے باہر کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی مجھے ضرورت ہو اور ہر وہ شئی جس کی مجھے ضرورت ہے وہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہے تو میں غیر کی طرف جاؤں گا کیوں۔اگر ہم آج یہ کہیں کہ کوئی ایسی چیز سوشلزم میں مل سکتی ہے جو قرآن کریم میں نہیں پائی جاتی تو ہمارا یہ دعویٰ غلط ہے کہ قرآن کریم ایک کامل اور مکمل کتاب ہے۔اس سے تو ہماری بنیادیں ہی اپنی جگہ سے ہل جاتی ہیں