خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 415
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۱۵ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا ( مريم : ٢٩) اے مریم نہ تیرے آباء میں سے کوئی بد کار تھا اور نہ تیری نانیوں میں سے کوئی بد کا رتھی۔تو پاک بنت پاک ہے اور تیری اولا د بھی پاک ہوگی۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام پر الزام لگایا گیا کہ وہ اپنی ماں سے بدسلوکی کرنے والے تھے۔قرآن کریم نے کہا تم ہمارے اس پاک بندے پر کیوں ظلم کرتے ہو برا بِوَالِدَى (مريم :۳۳) ہم نے تو اس کی فطرت میں رکھا تھا کہ وہ اپنی والدہ سے حسن سلوک کرے۔پھر حضرت عیسی علیہ السلام پر یہ تہمت لگائی گئی کہ آپ کی زندگی ایک ملعون زندگی تھی۔کہا گیا کہ مسیح علیہ السلام ہمارے لئے لعنتی بناتے۔قرآن کریم نے یہ کہا کہ تم یہ کیا کرتے ہو اور پھر ان کے منہ سے کہلوایا۔جَعَلَنِي مُبْرَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ (مريم :۳۲) میرے تو ایسے حالات ہیں کہ جہاں بھی میں زندگی گزارتا رہا ہوں اللہ تعالیٰ کی برکتوں کو پاتا رہا ہوں۔میں ملعون کیسے ہو گیا اگر مجھے خدا تعالیٰ سے دوری حاصل ہوتی اور میں ملعون ہوتا میری زندگی لعنتی ہوتی تو ہر لحظہ اور ہر آن اللہ تعالیٰ کی جو برکتیں مجھ پر نازل ہو رہی ہیں وہ کیسے نازل ہوتیں۔قرآن کریم میں جن انبیاء کا نام لیا گیا ہے ان کی چند مثالیں میں نے بیان کی ہیں۔بہت سی مثالیں میں نے چھوڑ دی ہیں میرا خیال ہے کہ ان انبیاء میں سے جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے ہر نبی پر اتہام لگایا گیا ہے اور ان تہمتوں کو دور کرنے کے لئے سوائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی نہیں آیا۔یہ چند مثالیں ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جو نبی بھی آیا اس پر اتہام لگانے والوں نے اتہام لگایا اور جھوٹ باندھنے والوں نے جھوٹ باندھا اور نہ اس بات کی ضرورت نہیں تھی کہ خدا تعالیٰ بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے یہ کہتا کہ جو نبی بھی ہم نے تمہاری طرف بھیجا وہ نذیر تھا یعنی وہ تمہیں فسق و فجور سے نکالنے کے لئے آیا تھا اور تمہیں یہ انذار کرتا تھا کہ اگر تم گناہوں کو چھوڑو گے نہیں تو اللہ تعالیٰ کی لعنت کے نیچے ہو گے اس کے غضب کے نیچے ہو گے اور جہنمی ہو گے تو گلتیوں بابب ۳ آیت ۱۳