خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 381
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۸۱ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطاب ویسے ہے تو یہ ایک جزیرہ مگر وہ بڑے وسیع پیمانوں پر جلسے کرتے ہیں اور ہر بڑے جلسے میں ملک کے پریذیڈنٹ یا پرائم منسٹر یا دوسرے وزراء یا چیف حج یا جوں میں سے کوئی حج غرض بڑے بڑے چوٹی کے لوگوں کو وہ شامل کرتے ہیں۔ان کو اپنا لٹریچر دیتے ہیں اور وہ تقریریں کرتے ہیں اور پڑھا ہوا ہوتا ہے ہمارا لٹریچر کیونکہ بڑے لوگوں کا عام قاعدہ یہ ہے کہ اپنے ذہن سے کچھ نہیں سوچتے بلکہ اپنے سیکرٹری سے کہہ دیتے ہیں کہ ہماری تقریر تیار کر دو۔ہمیں اس سے بڑا فائدہ ہوتا ہے اور سیکرٹری بچارہ کیا کرے گا جب کہ افسر اعلیٰ کچھ نہیں کر سکتا تو وہ کہاں سے تقریر تیار کرے گا چنانچہ وہ پھر جس کے متعلق تقریر کرنی ہوتی ہے اس کو کہتا ہے کہ ہمیں کچھ مواد دو چنانچہ بعض دفعہ اسلامی اصول کی فلاسفی یا دوسری کتابیں دے دی جاتی ہیں۔پھر وہ بڑی محنت سے پڑھتا ہے اور اپنے اعلیٰ افسر کو تقریر تیار کر کے دیتا ہے۔ہمیں اس سے فائدہ ہوتا ہے کیونکہ دوسروں کو جو فائدہ دیتے ہیں کیونکہ کسی کی طرف غلط کریڈٹ مسنوب ہونا تو ظلم ہے اور بے عزتی ہے ہم ایک سیکنڈ کے لئے اسے برداشت نہیں کر سکتے لیکن صحیح بات کسی کی طرف منسوب ہو جانا جو دنیا کے فائدہ کے لئے ہے یہ بہر حال اچھی بات ہے۔چنانچہ جب کبھی کسی جلسے پر کسی بڑے آدمی کو بلایا جا تا ہے اور وہ اس میں تقریر کرتا ہے تو کہتا ہے کہ اخلاق کے متعلق اسلام نے یہ تعلیم دی ہے احمدیت یہ سکھاتی ہے اور حیات بعد الممات کے متعلق اسلام نے یہ تعلیم دی ہے امن کے متعلق اسلام یہ تعلیم دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔پس وہ صحیح تعلیم کا نقشہ پورا بیان کر دیتا ہے کیونکہ اسلامی مواد سے تقریر ہوتی ہے اور لوگوں کو توجہ پیدا ہو جاتی ہے کہ ہم دیکھیں تو سہی یہ پرائم منسٹر یا کسی منسٹر یا چیف جج نے تقاریر کی ہیں۔ان میں حقیقت کہاں تک ہے۔غرض ہمارے دوست وہاں بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں کو نوازتا بھی ہے۔تربیت کے لحاظ سے جماعت بڑی اچھی ہوگئی ہے اور اس سال تھیں بیعتیں بھی ہوئی ہیں۔الحمد اللہ۔ترجمه تفسیری نوٹوں کے ساتھ شائع ہوا ہے اس کی چودہ ہزار کا پیاں چھپی ہیں زیادہ تر تو غیر ممالک میں لگے گا۔اسی طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جو دیباچہ قرآن کریم کا لکھا ہے۔وہ ایک مستقل کتاب کی حیثیت رکھتا ہے لیکن دیباچہ بھی ہے یہ بھی ہم نے چودہ ہزار کی تعداد