خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 358
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۵۸ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء۔دوسرے روز کا خطا۔نہ ہوتے یا اگر ان کو علیحدہ کر دیا جائے۔تو قرآن کریم ناقص ہو جائے گا۔یہ غلط ہے قرآن کریم اپنی ذات میں کامل اور مکمل ہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد احکام قرآنی اور بیان قرآنی پر زائد نہیں ہے بلکہ آپ کا ہر ارشاد اور آپ کا ہر بیان قرآن کریم کی تفسیر ہے۔زیادتی کوئی نہیں یہ تفسیر ہے۔قرآن کریم کی جو تفسیر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی پہلا نمبر تو اسی تفسیر کا ہے۔دنیا کا کوئی آدمی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میری تفسیر کو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر پر فوقیت حاصل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی یہ دعوئی نہیں تھا نہ آپ ایسا دعویٰ کر سکتے تھے۔اس محبت میں ڈوبے ہوئے جو آپ کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نظر آتی ہے۔یہ دعوئی ممکن ہی نہیں تھا کیونکہ ویسا عاشق فرزند اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی اور نہیں دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تفسیر قرآنی کو یا اللہ تعالیٰ نے جو مفہوم سمجھائے ان کی بناء پر یا اللہ تعالیٰ نے جو یہ بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو ارشاد ہے اس میں اس لحاظ سے تفسیر کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے وہ دروازے کھولے اور آپ نے وہ تفسیر بیان کی۔ہمارے نزدیک دوسرے نمبر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر ہے۔پہلے نمبر پر قرآن کریم کی تفسیر حضرت محمد مصطے صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر ہے اور دوسرے نمبر پر قرآن کریم کی تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر ہے جو آپ نے کی ہے اور آپ کی تفسیر میں کوئی ابدی غلطی نہیں رہ گئی۔آپ اس بات کو غور سے سنیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تفسیر کی ہے اس میں کوئی ابدی غلطی نہیں رہ گئی بلکہ اگر پہلے اعتقادات کی وجہ سے آپ نے کوئی بات بیان کی تو بعد کی کتب میں اللہ تعالیٰ کے منشا اور الہام کے ساتھ اس کی تصحیح کر دی گئی اور جس شکل میں مجموعی طور پر ہمارے ہاتھ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر دی گئی ہے اس شکل میں اس میں سوائے صداقت کے کچھ نہیں۔ایک مسئلہ ہے اس پر ایک وقت میں کچھ کہا دوسرے وقت میں کچھ کہا مگر جب ہم مجموعی طور پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں پتہ لگتا ہے کہ ایک وقت میں آپ نے یہ کہا حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔اس واسطے کہ وہ دل اپنی طرف سے کوئی بات اپنی زبان پر نہیں لاسکتا تھا اور نہ لانا چاہتا تھا۔جب