خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 319 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 319

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۱۹ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب العارفین کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں اپنی کتاب "الیواقیت والجواہر ( جلد ۳ صفحہ (۴۵) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لکھتے ہیں کہ : آپ حضرت آدم سے لے کر قیامت تک آنے والی مخلوق کی طرف مبعوث کئے گئے۔“ (ترجمہ) ( ترجمه عوارف المعارف صفحه ۴۰ تا ۴۲) اور ہمارے مشہور صوفی حضرت شہاب الدین سہروردی جو سہروردیہ سلسلہ کے امام ہیں وہ لکھتے ہیں:۔سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود کائنات کا سر چشمہ تھے (لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ إِلَّا فَلَاكَ یعنی تمام کائنات کا چشمہ آپ ہی کی ذات مبارک سے پھوٹا۔چنانچہ اس طرف آپ نے اس حدیث شریف میں اشارہ فرمایا ہے "كنت نبياً و آدم بين السماء و الطین “ میں اس وقت سے نبی تھا جب حضرت آدم پانی اور مٹی کے درمیان تھے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم و ہدایت کے ساتھ بھیجا اور یہ دونوں چیزیں آپ کے قلب سے قلوب تک منتقل ہوئیں اور آپ کے نفس مبارک سے دوسروں کے نفوس تک سرایت کر گئیں۔“ اب ایک شہادت شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی کی ہے وہ لکھتے ہیں: اگر تم کہو کہ خاتم کی کیا وجہ ہے اور اس کا مفہوم کیا ہے؟ ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء کہا گیا ہے ) تو ہم جواب میں یہ کہیں گے کہ آپ کے مقام کا کمال اس کا سبب ہے۔( یعنی جو خاتم آپ کو کہا گیا یعنی خاتم النبین اور آپ کے مقام کا کمال اس کا سبب ہے چونکہ ان کی زبان عالمانہ اور دقیق ہوتی ہے۔میں کھول دوں گا ) اور منع اور روک اس کا مفہوم ہے ( یعنی چونکہ کمالات نبوت کمالات انسانیت ، کمالات خلق آپ پر ختم تھے اس کی انتہا تک آپ پہنچے ہوئے تھے اس لئے آپ کو خاتم النبین قرار دیا گیا اور چونکہ آپ اس منع اور روک کے مقام تک پہنچے ہوئے تھے۔کوئی شخص بطور خود نہ اتنی استعداد رکھتا ہے اور اگر رکھتا ہے تو اس نے اتنی ہمت نہیں دکھائی کہ وہ اس ارفع مقام تک پہنچ سکے جس مقام تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے اور دوسرے منع اور روک کے یہ معنی کہ ہر شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی لیا جو کچھ لیا۔وہ آدم ہوں یا حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں۔وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں یا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہوں پہلے