خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 318 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 318

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۱۸ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب اسی طرح حضرت عبدالکریم جیلانی جو بغداد کے نامور صوفی تھے جن کی وفات ۱۱۶۵ء میں ہوئی۔وہ اپنی کتاب ”انسان کامل“ میں لکھتے ہیں۔انسان کامل وہ ہے ( یہ اس حدیث کی تفسیر میں سارے حوالے ہیں ) جو مخلوقات کا مرکزی نقطہ اور محور ہے اور وہ شروع سے ایک ہی تھا ہاں وہ مختلف حلوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے اس کا اصلی وجود ایک ہی ہے اس وجود باجود کا اسم مبارک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور کنیت ابوالقاسم اور وصف عبداللہ اور لقب شمس الدین تھا پھر آپ کے مختلف اعتبارات سے مختلف پیرہن ہیں۔( ترجمه از انسان کامل جلد دوم صفحه ۶۱ ۶۲) اسی طرح حضرت شیخ بالی آفندی جو اپنے زمانہ میں عالم محق ، قابل مدقق ، شیخ عصر اور خلیفہ الصوفیاء 66 کے نام سے یاد کئے جاتے تھے۔۱۵۵۲ء میں یہ فوت ہوئے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔پس آدم علیہ السلام سے لے کر ہر نبی نبوت خاتم النبیین کے مشکوۃ سے حاصل کرتا ہے اگر چہ آپ کے وجود کی مٹی کا خمیر ان سے متاخر تھا لیکن حقیقت کے لحاظ سے ہر زمانہ میں پہلے سے موجود تھا۔یہی مفہوم ہے اس حدیث کا کہ كُنت نبيا و آدم بـيـن الـمـاء والطین اور اسی طرح باقی انبیاء کی تخلیق سے قبل کہ وہ نبی صرف اپنی بعثت کے وقت ( سے نبی ) تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نبی آدم کی تخلیق سے بھی قبل ( نبی ) تھے۔“ ( ترجمه از شرح فصوص الحکم صفحه ۵۷،۵۶) اسی طرح حضرت شیخ محمد اکرم صابری جو سلسلہ صابر یہ قدوسیہ نظاریہ کے مشہور مشائخ کے پیشوا بھی ہیں تحریر فرماتے ہیں کہ : محققوں کے نزدیک یہ امر ثابت شدہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مبارک اس وقت بھی موجود تھا جب کہ ابتداء میں دنیا انسان کی شکل میں ظاہر ہوئی اور حضور ہی تھے جو بالآ خر خاتم النبین بن کر ظاہر ہوئے۔“ ( ترجمه اقتباس الانوار صفحه ۵۲٬۵۱) اور بتایا ہے کہ دراصل پیدائش خلق سے بھی پہلے آپ کی حقیقت موجود تھی لیکن اس کی تفصیل میں بعد میں بتاؤں گا۔حضرت امام عبد الوہاب شعرانی ” جو سولہویں صدی کے مشہور بزرگ اور قطب الواصلین اور امام