خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 22 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 22

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۲ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطار ہوگا اور انہیں اپنے فضلوں اور برکتوں سے نوازے گا۔اب میں اس واقعہ کو لیتا ہوں جو گزشتہ ستمبر میں ہماری قوم اور ہمارے ملک پر گزرا۔۶ ستمبر کو ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے نہایت ظالمانہ طور پر اور فریب سے کام لیتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا۔سترہ دن تک یہ جنگ لڑی گئی۔یہ جنگ عام معمولی جنگوں کی طرح نہیں تھی بلکہ اس میں ہمیں بعض ایسی باتیں نظر آتی ہیں جو اسے ایک خاص قسم کی جنگ بنا دیتی ہیں کیونکہ دوران جنگ پاکستانی قوم پر اللہ تعالیٰ کے مختلف اقسام کے افضال اور برکتیں نازل ہوتی نظر آئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کارخیر کنند دعوی حُبّ پیمبرم آپ نے ایک موقعہ پر فرمایا۔( در تمین فارسی صفحه ۱۰۷) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک سورۃ بھیج کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدر اور مرتبہ ظاہر کیا ہے اور وہ سورۃ ہے اَلَم تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحُبِ الْفِيْلِ یہ سورۃ اس حالت کی ہے کہ جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم مصائب اور دُکھ اٹھا رہے تھے اللہ تعالیٰ اس حالت میں آپ کو تسلی دیتا ہے کہ میں تیرا مؤید وناصر ہوں۔اس میں ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے اصحاب الفیل کے ساتھ کیا کیا۔یعنی اُن کا مکر الٹا کر اُن پر ہی مارا اور چھوٹے چھوٹے جانوران کے مارنے کے لئے بھیج دیئے۔ان جانوروں کے ہاتھوں میں کوئی بندوقیں نہ تھیں بلکہ مٹی تھی سجیل بھیگی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں۔اس سورۃ شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ قرار دیا ہے اور اصحاب الفیل کے واقعہ کو پیش کر کے آپ کی کامیابی اور تائید اور نصرت کی پیشگوئی کی ہے۔یعنی آپ کی ساری کارروائی کو بر باد کرنے کے لئے جو سامان کرتے ہیں اور جو تدابیر عمل میں لاتے ہیں۔ان کے تباہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ان کی ہی تدبیروں کو اور کوششوں کو الٹا کر دیتا ہے کسی بڑے الفيل : ٢