خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 312 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 312

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۱۲ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب کرنے پر آئے گا تو اس میں بھی وہ کامل طور پر اللہ کی اس صفت کا مظہر ہوگا۔جب وہ معاف کرے گا تو لَا تَغْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (یوسف : ۹۳) کا ایسا نعرہ لگائے گا کہ انسانی تاریخ اس کی مثال نہیں پیش کر سکے گی۔جب وہ عزیز ہونے کی صفت کا مظہر بنے گا تو سارا عرب جب اکٹھا ہو جائے گا تو وہ قدرت الہی جو اس میں جلوہ گر ہوگی ہوا کے ذروں کی طرح اسے اڑا کے رکھ دے گی۔پس تمام صفات کا وہ مظہر ہو گا۔اس مقصد کے حصول کے لئے ایک ایسے ہی انسان کامل کی ضرورت تھی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ انسان کامل کون ہے؟ دنیا میں جب سے انسان کی پیدائش ہوئی ہے بڑے بڑے مقرب پیدا ہوئے لیکن وہ انسان کامل جس نے اس خلافت حقہ کا حق ادا کیا اپنی استعداد کی رو سے بھی اور اس استعداد کی تربیت کاملہ کی رو سے بھی ( خالی استعداد کافی نہیں ہے استعداد کی کامل تربیت اور کامل نشو ونما کی ضرورت ہے ) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعوی ہے کہ آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ انسان کامل ہیں کہ جس کی پیدائش کے لئے جس کے وجود کے لئے جس کے معرض وجود میں آنے کے لئے ساری کائنات کو پیدا کیا اور آپ اپنی استعدادوں کے لحاظ سے بھی اور ان استعدادوں کی تربیت کے لحاظ سے بھی انسان کامل اور جو انسان کامل ہو گا وہ اشرف المخلوقات بھی ہوگا یعنی حقیقی معنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اشرف المخلوقات ہیں۔تو ایک تو آپ کی صفت آپ کے دعوئی کے مطابق ہے (ابھی ہم آپ کے دعوئی میں ہیں) آپ کا دعویٰ ہے اور قرآن کریم نے بڑے زور سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کوئی مخلوق نہیں۔آپ اشرف المخلوقات ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کامل کوئی انسان نہیں کیونکہ آپ ہی انسان کامل ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بلند اور ارفع شان رکھنے والا کوئی نبی نہیں کیونکہ آپ خاتم النبین ہیں۔تو یہ دعویٰ قرآن کریم نے بھی بڑے زور سے کیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قرآن کریم کی اس ہدایت کے مطابق ان قرآنی آیات کی تفسیر میں کیا کہ میں ہی صحیح معنے میں اشرف المخلوقات، میں ہی حقیقی طور پر انسان کامل اور میں ہی نبیوں کا سردار اور خاتم النبیین کامل اور مکمل طور پر ان کامل رفعتوں پر پہنچ جانے کی وجہ سے جہاں تک میرے خدا نے مجھے توفیق عطا کی۔یہ دعویٰ قرآن کریم کی متعدد آیات میں ہمیں نظر آتا ہے مثلاً