خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 295
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۹۵ ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب ہے۔میں دعائیں یہ کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس جلسہ کی برکتوں سے زیادہ سے زیادہ حصہ عطا کرے اور ان برکتوں کے حصوں سے جو ذرائع اللہ تعالیٰ نے مہیا کئے ہیں وہ ہمیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے مثلاً یہاں کی پاک اور محبت بھری فضا ہے مثلاً یہاں کی تقریر میں ہیں مثلاً یہاں کی بشاشتیں ہیں مثلاً یہاں کے ہنس مکھ چہرے ہیں پھر صرف یہاں کے رہنے والے ہی ہنس لکھ نہیں ہوتے باہر سے آنے والے بھی اس فضا میں ہنس مکھ ہو جاتے ہیں۔غرض محبت اور پیار کا ایک سمندر ہے جس میں ہم نہاتے ہیں اور اپنی ساری کدورتیں دور کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے ہماری ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔مثلاً مقرر کی ذمہ داری ہے کہ وہ تسکین قلب کے سامان کرے محنت کرے۔غفلت سے کام نہ لے۔مجھے بڑی کثرت سے دعائیں کرنی اور استغفار کرنا پڑتا ہے کہ کسی اپنی غفلت یا کوتاہی کے نتیجہ میں میرے اپنے بولوں میں ( جو میں تقریر کرتا ہوں ) کوئی ایسی کمی نہ رہ جائے کہ آپ اس کمی کو محسوس کریں اور سمجھیں کہ اس شخص نے اپنی غفلت سے ہمیں ایک برکت سے محروم کر دیا ہے۔غرض بڑی دعاؤں کے بعد مجھے یہاں آنا پڑتا ہے آپ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذمہ داریوں کے نبھانے کی توفیق عطا کرے۔کل کا مضمون بھی ہے ملاقاتیں بھی ہیں اور پھر مجھے آجکل یہ بیماری بھی ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے ویسے بیماری تو جیسے میں نے بتایا ہے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔آپ میں سے کسی نے یا میں نے جب اللہ تعالیٰ کا کام کرنا ہو تو بیماری کا احساس نہیں ہوتا۔جب تک زندگی ہے اور ہمت اور توفیق ہے انسان کو کام کرتے چلے جانا چاہئے اور اللہ تعالیٰ فضل بھی کرتا ہے۔چنانچہ میں نے بتایا ہے کہ صبح میرا گلا بالکل بیٹھا ہوا تھا اس سے آواز نہیں نکلتی تھی اور میں محسوس کرتا تھا کہ گلے کے بعض ایسے حصے ہیں کہ جہاں سے آواز پیدا ہوتی ہے کام نہیں کر رہا لیکن یکدم وہ بیٹھا ہوا گلا ٹھیک ہو گیا اور اس میں آواز آ گئی۔نزلہ کا ابھی ہے۔آپ دعا کریں ہمارے لئے بھی اور اپنے لئے بھی۔اپنے لئے یہ کہ آپ زیادہ سے زیادہ برکتوں کو حاصل کریں اور نمبر ۲ زیادہ سے زیادہ برکتیں پہنچانے کا وسیلہ بنیں اور ہمارے لئے کہ ہم اس پاک ماحول سے زیادہ سے زیادہ برکتیں حاصل کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ نبھا کر زیادہ سے زیادہ افاضہ خیر کا موجب بنیں۔سب خیر تو خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ہم جو بھی دیتے ہیں۔وہ ایک خادم اور کل کی حیثیت سے دیتے ہیں خیر اور خادم میں بھی شاعروں کے